اضافی چارجز عائد کئے جانے پر گوشت برآمد کنندگان کو شدید تحفظات
باضابطہ طور پروزارت تجارت سے رجوع، مداخلت کرنے کی درخواست کردی اہم عالمی منڈیوں کو کی جانے والی برآمدات میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ، یونین
کراچی(کامرس رپورٹر)گوشت برآمد کنندگان نے اضافی ایڈہاک چارجز عائد کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس اقدام سے برآمدی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے اور اہم عالمی منڈیوں کو کی جانیوالی برآمدات میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے ،آل پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن نے اس معاملے پر باضابطہ طور پر وزارتِ تجارت سے رجوع کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کی اور کہا ہے کہ برآمد کنندگان پر عائد ان غیر مجاز اور غیر ضروری چارجز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق گیریز ڈی نیٹا نے حال ہی میں گوشت کی برآمدات پر 50 روپے فی کلو اضافی چارج عائد کیا ہے اور برآمد کنندگان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ چارج ادا نہ کیا گیا تو برآمدی کھیپ پروسیس نہیں ہوگی، برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات صنعت پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈال رہے ہیں اور ایسے وقت میں برآمدات کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں جب پاکستان اپنی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے ، صنعتی نمائندوں کے مطابق یہ اضافی چارج تقریباً 180 ڈالر فی ٹن بنتا ہے جس سے لاجسٹکس کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا ۔صنعتی حلقوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ چارجز برقرار رہے تو برآمدی لاگت میں اضافہ ہوگا، بیرونِ ملک خریدار کم لاگت والے متبادل سپلائرز کی جانب جاسکتے ہیں۔