جون سے آم کی برآمدات کے فیصلے پر ایکسپورٹرز کے تحفظات
عید الاضحیٰ کے باعث لیبر کی قلت ، ٹرانسپورٹ کے مسائل پیداہونگے ،ماہرین
پنگریو(این این آئی)وزارتِ تجارت کی جانب سے آموں کی برآمدات کا آغاز یکم جون سے مشروط کرنے کے فیصلے پر ملک بھر خصوصا سندھ کے کاشتکاروں اور برآمدکنندگان نے تحفظات کا اظہار کیا ۔مراسلے کے مطابق ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت برآمدات کی تاریخ میں توسیع کا مقصد آموں کی بہتر کوالٹی، قدرتی پکائی اور عالمی منڈیوں میں اعلی معیار کو یقینی بنانا ہے ، تاہم زرعی و تجارتی حلقوں کے مطابق زمینی حقائق اس فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ماہرین اور ایکسپورٹرز نے کہا کہ رواں برس عیدالاضحی جون کے اوائل میں متوقع ہے۔
جس کے باعث لیبر کی قلت، ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ، کنٹینرز کی محدود دستیابی، بندرگاہوں پر رش اور ادائیگیوں میں تاخیر جیسے مسائل پہلے ہی موجود ہیں۔ ایسے میں یکم جون سے برآمدات شروع کرنے کا فیصلہ بروقت شپمنٹ میں مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری جانب سندھ کے باغبانوں نے کہا کہ اس فیصلے سے زیادہ متاثر سندھ کا مشہور سندھڑی آم ہوگا، جو اس سال معمول سے پانچ سے دس دن پہلے تیار ہو رہا ہے۔