صنعتی و آٹو شعبے میں تیزی، مہنگائی اور قرضوں میں خطرناک اضافہ

صنعتی و آٹو شعبے میں تیزی، مہنگائی اور قرضوں میں خطرناک اضافہ

گاڑیوں، ٹریکٹرز اور سیمنٹ کی فروخت میں بہتری، اسٹاک مارکیٹ نے بھی منافع دیا کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں، حکومتی قرضے 80ہزار ارب سے تجاوز کرگئے

کراچی(رپورٹ:حمزہ گیلانی)پاکستان کے بڑے مالیاتی و معاشی اداروں، اسٹیٹ بینک،اسٹاک ایکسچینج، ایف بی آر، نیپرا اور ادارہ شماریات سمیت دیگر اداروں کی تازہ رپورٹ نے معیشت کی ایک ملی جلی تصویر پیش کردی جہاں ایک جانب صنعتی سرگرمیوں، آٹو اور تعمیراتی شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، وہیں دوسری جانب مہنگائی، بڑھتے حکومتی قرضے اور بیرونی کھاتوں کا دباؤ تشویشناک حد تک بڑھ گیا ۔معاشی جائزے کے مطابق آٹو سیکٹر نے غیر معمولی بحالی دکھائی جہاں گاڑیوں کی سالانہ فروخت میں 106.9 فیصد جبکہ ٹریکٹرز کی فروخت میں 76.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔آٹو فنانسنگ بھی 36.6 فیصد بڑھ کر360 ارب روپے تک پہنچ گئی،اسی طرح زرعی شعبے میں کھاد کی فروخت 84.7 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں رہی۔ دوسری جانب تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کے باعث سیمنٹ کی فروخت 11.1 فیصد بڑھ کر 39 لاکھ ٹن ہوگئی جبکہ بڑی صنعتوں کا پیداواری انڈیکس ایک سال میں 11.1 فیصد اضافے سے 124.9 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اسٹاک مارکیٹ نے بھی سرمایہ کاروں کو بھرپور منافع دیا۔دوسری جانب مہنگائی نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیاجہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 11.1 فیصد تک پہنچ گئی۔

توانائی کے شعبے میں طلب میں کمی کے باعث بجلی کی پیداوار 9.7 فیصد کم رہی، جبکہ ڈیزل اور پٹرول کی فروخت میں بھی کمی دیکھی گئی جو معاشی سرگرمیوں میں جزوی سست روی کو ظاہر کرتی ہے ۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ بیرونی کھاتوں کی صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی، درآمدات میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت سے منفی زون میں داخل ہوگیا جبکہ درآمدی بل بڑھ کر تقریباً 7 ارب ڈالر تک جا پہنچا اور خالص بیرونی سرمایہ کاری میں 69.5 فیصد کی نمایاں کمی کے بعد حجم محض 5 کروڑ 45 لاکھ ڈالر رہ گیاتاہم کچھ مثبت اشاریے بھی سامنے آئے ، جہاں ترسیلات زر میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا اور زرمبادلہ کے ذخائر 55.2 فیصد بڑھ کر15ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے جبکہ روپے کی قدر میں بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی 0.8 فیصد بہتری دیکھی گئی۔ بینکاری شعبے نے نجی کاروباری سرگرمیوں کو سہارا دیا، جہاں پرائیویٹ سیکٹر کو قرضوں کا حجم 11.8 فیصد اضافے کے ساتھ 106 کھرب روپے تک پہنچ گیا رپورٹ میں سب سے بڑا خطرہ حکومتی قرضوں میں تیز رفتار اضافہ قرار دیا گیا، جو ایک سال میں بڑھ کر80 ہزار ارب روپے کی حد عبور کرچکے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں