نیسلے اور پی سی ایس آئی آر کا عالمی یوم تحفظ خوراک کی تقریب کا انعقاد

نیسلے اور پی سی ایس آئی آر کا عالمی یوم تحفظ خوراک کی تقریب کا انعقاد

لاہور(بزنس ڈیسک)نیسلے پاکستان نے عالمی یوم تحفظ خوراک 2026 کے موقع پر پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر)، پاکستان سوسائٹی آف فوڈ سائنٹسٹس اینڈ ٹیکنالوجسٹس (پی ایس ایف ایس ٹی)، جامعہ پنجاب کے شعبہ فوڈ سائنس اور نور انٹرنیشنل یونیورسٹی (این آئی یو)کے اشتراک سے تقریب کا انعقاد کیا۔

اس سال دن کا موضوع بوجھ سے حل تک ہر جگہ محفوظ خوراک تھا۔تقریب میں پاکستان میں خوراک کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ڈائیلاگ کو فروغ دینے کے مقصد کیلئے حکومتی نمائندوں، ریگولیٹرز، ماہرین تعلیم، صنعتی رہنماؤں اور طلبہ نے شرکت کی۔ تقریب میں سیکریٹری پنجاب فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کرن خورشید، نیسلے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیسن آوانسینا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان فوڈ اتھارٹیز کے اعلی حکام اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی( پی ایس کیو سی اے )کے نمائندگان شامل نے شرکت کی۔ شرکا نے عملی، سائنسی بنیادوں پر مبنی مقامی طورپر قابل عمل حکمت عملی پر زور دیا تاکہ لوگ آسانی سے سمجھ سکیں اور بہتر انتخاب کر سکیں۔اپنے خطاب میں جیسن آوانسینا نے کہاکہ نیسلے میں فوڈ سیفٹی صرف ایک ترجیح نہیں بلکہ ہمارے کاروبار اور صارفین کے اعتماد کی بنیاد اور صارفین کے حوالے سے ہماری سب سے اہم ذمہ داری ہے ۔

ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ محفوظ خوراک کے نظام کو فروغ دینے کے لیے حکومت، ریگولیٹرز، تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ پی سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اعجاز نے کہا کہ تحقیق خوراک کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ کوآرڈینیشن منیر حسین چوپڑا نے موثر منصوبہ بندی، قوانین کے نفاذ اور عوامی آگاہی کو ویلیو چین میں کھانے کو محفوظ رکھنے کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر احمد علی شیخ نے کہا کہ بغیر پیک شدہ خوراک سے متعلق خطرات پر قابو پانے کے لیے قوانین کامضبوط نفاذ، تکنیکی نگرانی اور خوراک کے کاروبار سے وابستہ افراد و صارفین کی مسلسل شمولیت ضروری ہے ۔

بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حبیب اللہ خان نے کہا کہ ملک بھر میں محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے صوبائی استعداد کارمیں اضافہ، ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعاون اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے فیکلٹی آف فوڈ، نیوٹریشن اینڈ ہوم سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عمران پاشا نے تعلیمی اداروں کے تحقیقی شواہد کی فراہمی ، افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافہ اورخوراک کے محفوظ نظام کے لیے سائنسی بنیادوں پر حل تیار کرنے میں اہم کردار کواجاگر کیا ۔پاکستان سوسائٹی آف فوڈ سائنٹسٹس اینڈ ٹیکنالوجسٹس کے سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم نے کہا کہ پی ایس ایف ایس ٹی جیسے پیشہ ورانہ اور سائنسی پلیٹ فارمز اکیڈمیا، ریگولیٹرز، صنعت اور صارفین کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔تقریب میں غذائی معلومات کی لیبلنگ کے نظام کو کوڈیکس کے اصولوں اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں