ٹڈاپ کے زیراہتمام زراعت و باغبانی اور لائیو اسٹاک شعبوں پر سیمینار
کوئٹہ(بزنس ڈیسک)ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کوئٹہ کے زیرِ اہتمام قومی برآمد کنندگان تربیتی پروگرام (این ای ٹی پی)کے تحت زراعت و باغبانی (زیتون، بادام اور سبزیاں) اور لائیو اسٹاک کے شعبوں پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں برآمد کنندگان، کاشتکاروں، ماہرینِ تعلیم، سرکاری اداروں، ترقیاتی تنظیموں اور محققین نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد بلوچستان کے زرعی، باغبانی اور مویشی بانی کے شعبوں میں موجود برآمدی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا۔سیمینار کا آغاز ڈائریکٹر ٹی ڈی اے پی کوئٹہ، نور علی اچکزئی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے برآمدات کے فروغ میں ٹڈاپ کے کردار اور قومی برآمد کنندگان تربیتی پروگرام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔کوئٹہ چیمبر آف اسمال ٹریڈرز کے سینئر نائب صدر تاج محمد بریچ نے بلوچستان میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کی وسیع استعداد پر گفتگو کی جبکہ پی ایچ ڈی ای سی کوئٹہ کے اسسٹنٹ منیجر محمد عباس خان نے باغبانی کے شعبے کی برآمدی صلاحیت، ویلیو چین میں درپیش اہم چیلنجز، برآمدی ضوابط کی عدم تعمیل اور ان کے حل کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔
قومی برآمد کنندگان تربیتی پروگرام کے چار ماڈیولز پر مشتمل جامع تربیتی سیشن محمد ادریس (اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور فوکل پرسناین ای ٹی پی) اور محمد شریف (ایگزیکٹو آفیسر،ٹڈاپ کوئٹہ)نے مشترکہ طور پر منعقد کیا۔ سیشن میں برآمدی طریقہ کار، دستاویزی تقاضے ، مالی معاونت، ادائیگی کی شرائط اور مارکیٹنگ حکمت عملیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر رضوانڈپٹی منیجر پاکستان سنگل ونڈونے بھی شرکت کی اور ایک جامع پریزنٹیشن کے ذریعے بتایا کہ پاکستان سنگل ونڈو کس طرح برآمدی عمل اور طریقہ کار کو برآمد کنندگان کے لیے زیادہ آسان، مؤثر اور تیز رفتار بناتا ہے ۔سیشن کے دوران شرکاء نے متعدد اہم چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں جدید مذبح خانوںکی کمی، کولڈ چین انفرااسٹرکچر کی ناکافی دستیابی، کارپوریٹ فارمنگ کا فقدان اور زرعی شعبے سے متعلق حقیقی وقت کے ڈیٹا کی عدم دستیابی شامل ہیں۔