پاکستان بڑے تجارتی خسارے والے 25 ممالک میں شامل
15سال کے دوران برآمدات 20فیصد بڑھ سکیں،درآمدات میں 60فیصداضافہ خام مال پر بھاری ڈیوٹیز نے برآمدی صنعت کی کمر توڑ دی،اکنامک پالیسی رپورٹ
کراچی (رپورٹ:حمزہ گیلانی)برآمدات میں اضافہ اور معاشی استحکام کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ملکی تجارت پر ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں پاکستانی برآمدات میں صرف 20 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیاجبکہ اس کے برعکس درآمدات 60 فیصد سے زائد بڑھ جانے سے معیشت شدید ترین تجارتی خسارے کی دلدل میں دھنس چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2011 میں ملک کی مجموعی برآمدات 31 ارب 10 کروڑ ڈالر تھیں جو کہ طویل عرصے کے بعد مالی سال 2026 کے پہلے 11 ماہ میں معمولی اضافے کے ساتھ صرف 37 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکیں۔
دوسری جانب درآمدات میں بے تحاشا اضافے کے باعث ملکی تجارتی خسارہ مسلسل بڑھتے ہوئے 32 ارب 10 کروڑ ڈالر کی تشویشناک سطح پر پہنچ گیا ہے ،اس بھیانک صورتحال کے نتیجے میں پاکستان اب دنیا کے ان 25 ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جن کا تجارتی خسارہ سب سے زیادہ ہے ۔ رپورٹ میں برآمدی شعبے کی زبوں حالی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ برآمدات کو محدود سہولتیں فراہم کرنے کے باوجود برآمدی مسائل جوں کے توں قائم ہیں ۔حکومت کی جانب سے ای ایف ایس اسکیم میں 1 فیصد کی کمی اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کا خاتمہ برآمدی شعبے کی بحالی کیلئے انتہائی ناکافی ثابت ہوا ہے، مزید برآں ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیم اور فائنل ٹیکس رجیم کے خاتمے نے برآمدی صنعت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدی خام مال پر بھاری محصولات اور ڈیوٹیز عائد کیے جانے کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان عالمی منڈیوں میں مسابقت کی صلاحیت کھو چکے ہیں ۔سونے پر سہاگا یہ کہ ملکی ایکسپورٹرز کے اربوں روپے ٹیکس ری فنڈز کی مد میں اب بھی سرکاری خزانے میں پھنسے ہوئے ہیں۔معاشی مبصرین نے رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا، تو آنے والا مالیاتی سال27ء کا بجٹ بھی 15 سالہ جمود اور معاشی ناکامی کا ایک اور سال ثابت ہوگا۔