8سال کے دوران قومی قرض 234 فیصد بڑھ گیا، رپورٹ

8سال کے دوران قومی قرض 234 فیصد بڑھ گیا، رپورٹ

2018میں 25 کھرب، اب 83 کھرب سے تجاوز کرنا تشویشناک معاشی رجحان نئے قرضے لیکر پرانے قرضوں کی ادائیگی کی پالیسی دیر پامعاشی حل نہیں، ماہرین

کراچی(محمد حمزہ گیلانی)اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قومی قرضہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران غیر معمولی رفتار سے بڑھا ہے جس کے باعث نہ صرف روپے کی قدر پر دباؤ میں اضافہ ہوا بلکہ مہنگائی اور مالیاتی عدم استحکام کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں رپورٹ کے مطابق مالیاتی سال 2018 میں قومی قرضہ تقریباً 25 کھرب روپے تھاجو مالیاتی سال 2026 تک بڑھ کر 83 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔ اس طرح آٹھ سال کے عرصے میں قومی قرضوں میں تقریباً 234 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ملکی معیشت کیلئے تشویشناک رجحان ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت مسلسل مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں سے بھاری قرضے لے رہی ہے ، جسکے نتیجے میں بینکاری نظام میں منی سپلائی میں اضافہ اور مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے ، ماہرین کے مطابق حقیقی معاشی پیداوار میں متناسب اضافے کے بغیر معیشت میں زیادہ رقوم شامل ہونے سے روپے کی قدر کمزور اور افراطِ زر بڑھتا ہے ۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر حکومت قرضوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتی ہے تو منی سپلائی مزید بڑھے گی، جس سے مہنگائی پر قابو پانا مزید مشکل ہو سکتا ہے ، رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے لینے کی پالیسی دیرپا معاشی حل نہیں، ماہرین نے مشورہ دیا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنایا جائے ، ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...