کاٹن زونز میں گنے کی کاشت، نئی شوگر ملز پر پابندی کا مطالبہ

کاٹن زونز میں گنے کی کاشت، نئی شوگر ملز پر پابندی کا مطالبہ

پاور ٹیرف،مارک اپ کی شرح میں اضافے سے کاٹن اسٹیک ہولڈرز مایوس

کراچی(این این آئی)چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا ہے کہ پاور ٹیرف اور مارک اپ کی شرح میں اضافے ، برآمد کنندگان کی بجائے درآمد کنندگان کیلئے غیر معمولی رعایتوں اور کراپ زوننگ قوانین پر عملدرآمد کے فقدان کے باعث کاٹن اسٹیک ہولڈرز کی مایوسی بڑھ گئی ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس بھارت نے اپنی کاٹن ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات کی مدت 31دسمبر تک بڑھا دی ہے ، چین نے حیران کن طور پر امریکا سے بڑے پیمانے پر روئی کی درآمدات کا آغاز کردیا ہے ۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں آج کل پاکستان میں کپاس کی بحالی کیلئے چند اقدامات کرنے جا رہی ہے جس میں اپٹما کی سربراہی میں ایک کاٹن بورڈ کا قیام اور کاٹن سیڈ کی درآمد میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں لیکن پاکستان میں کپاس کی تباہی میں سب سے بڑی وجہ کاٹن زونز میں گنے کی کاشت اور یہاں نئی شوگر ملز کے قیام پر پابندی کے اقدامات نظر نہ آنا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ معیاری روئی کی محدود دستیابی، بڑھتی پیداواری لاگت، بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں کمی اور خلیج جنگ کے باعث گزشتہ ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رحجان غالب رہا اور روئی کی فی من قیمت میں 100 تا 200روپے کی کمی واقع ہوئی، تاہم 3نومبر کو کپاس کی مقامی پیداوار کے تازہ ترین اعدادوشمار آنے کے بعد پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کا واضح رحجان سامنے آسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاک افغان کشیدہ حالات اور سرحدیں سیل ہونے کی وجہ سے افغانستان میں پیدا ہونے والی 10 سے 12لاھ روئی کی گانٹھوں کی درآمدات بھی گذشتہ ایک سال سے معطل ہیں، تاہم یہ اطلاعات زیرگردش ہیں کہ افغانستان اب ترکی کو بذریعہ ریلوے روئی برآمد کررہا ہے ۔ ابتدائی طور پر 600ٹن روئی کا ایک کنسائنمنٹ ترکی روانہ کردیا گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...