یورپ: مہنگائی، رہائشی بحران کیخلاف مظاہرے، جھڑپیں، سینکڑوں گرفتار
جرمنی میں ہنگامے ، دکانوں میں توڑ پھوڑ ،لوٹ مار،فرانس میں طلبا کا دوبارہ احتجاج کا اعلان، آج سے سکول بند بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے :مظاہرین،تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کا مطالبہ
پیرس،برلن،لزبن(نیوز ایجنسیاں)یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی، رہائشی بحران، تعلیمی سہولیات کی کمی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ،ہفتہ اور اتوار کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فرانس، جرمنی، پرتگال اور البانیہ سمیت متعدد ممالک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، پولیس نے سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔جرمنی کے کئی بڑے شہروں میں دسیوں ہزار افراد نے بہتر تعلیمی سہولیات اور روزمرہ اخراجات میں کمی کے مطالبے پر مظاہرے کیے ، ہفتے کو رات گئے احتجاج پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہوگیا ، فرینکفرٹ میں نقاب پوش شرپسندوں نے دکانیں لوٹ لیں۔برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت ملک کے 34 شہروں میں مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین لازمی فوجی سروس کے مخالف ہیں اور تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جرمنی کے نوجوانوں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے ۔فرانس میں مسلسل تیسرے ہفتے نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ،
جن میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مہنگائی، تعلیمی نظام کی خرابی، اساتذہ کی کمی اور عوامی سہولیات کی ناقص صورت حال پر احتجاج کیا۔ بعض شہروں میں مظاہرے پرتشدد ہوگئے ، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے ،فرانس میں طلبا نے حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے آج پیر سے ہائی سکولوں کی بندش اور احتجاجی مظاہرے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ طلبا تنظیم کے مطابق آج بعض سکولوں کا گھیراؤ کیا جائے گا، جبکہ منگل سے احتجاج میں مزید شدت آنے کا امکان ہے ۔۔ فرانسیسی حکام کے مطابق 779 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ، جبکہ سکیورٹی کیلئے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ۔جرمنی کے تقریباً 30 شہروں میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے تعلیم، صحت، رہائش اور سماجی شعبوں کیلئے زیادہ سرکاری فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔
فرینکفرٹ، برلن اور ہیمبرگ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ فرینکفرٹ میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا،کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 54 افراد گرفتار کرلیے گئے ۔پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں ہزاروں افراد نے بڑھتے کرایوں اور رہائشی بحران کے خلاف مارچ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے کرایوں اور بے دخلی سے متعلق مجوزہ قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے روسیو اسکوائر میں 50 سے زائد خیمے نصب کرکے احتجاجی کیمپ قائم کیا، تاہم اتوار کی صبح پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کیمپ ختم کرا دیا۔ پولیس نے ڈھالوں اور لاٹھیوں کا استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر کیا، جبکہ سینکڑوں افراد وہاں موجود تھے ۔ پورٹو شہر میں بھی احتجاجی کیمپ ختم کرایا گیا۔البانیہ میں وزیراعظم کے استعفے اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف احتجاج ہوا، جس کے دوران مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ سوئٹزرلینڈ سمیت یورپ کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں رپورٹ ہوئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments