محکمہ سوشل سکیورٹی کی غفلت،7لاکھ مزدور حقوق سے محروم

محکمہ سوشل سکیورٹی کی غفلت،7لاکھ مزدور حقوق سے محروم

فیصل آباد(بلال احمد سے )محکمہ سوشل سکیورٹی کی غفلت کے باعث صنعتی شہر کے ساڑھے سات لاکھ سے زائد مزدور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

 عدم رجسٹریشن کے باعث تعلیم، صحت سمیت دیگر سہولیات کے فقدان نے متوسط طبقے کو معاشی پریشانیوں کی دلدل میں دھنسا دیا۔محتاط اندازے کے مطابق صنعتی یونٹس میں تقریبا 10 لاکھ سے زائد مزدور کام کرتے ہیں جن میں سے صرف 2 لاکھ 17 ہزار سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے بھی صرف 1 لاکھ 49 ہزار مزدوروں کے سوشل سکیورٹی کارڈ بنائے گئے ہیں جبکہ دیگر 67 ہزار مزدوروں کے نام پر ہر ماہ 14 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کی سوشل سکیورٹی فیس 2200 روپے فی کس کے حساب سے قومی خزانے میں جمع تو ہوتی ہے تاہم اس کارڈ کی عدم دستیابی کے باعث مذکورہ مزدور سہولیات حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ذرائع کے مطابق صنعتکار ٹیکسوں سے بچنے کیلئے ورکرز کی تعداد کم ظاہر کرتے ہیں اور اس کی مد میں سوشل سکیورٹی کے افسروں کو بھاری نذرانے بھی ادا کیے جاتے ہیں۔ شہر کا 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد مزدور پیشہ طبقہ سوشل سکیورٹی میں رجسٹریشن کی سہولت سے ہی محروم ہے ۔لیبر قومی موومنٹ کے سربراہ بابا لطیف کا کہنا ہے کہ طویل عرصہ سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کررہے ہیں۔ سوشل سکیورٹی سے رجسٹریشن کی صورت میں مزدور اور اس کی فیملی کو علاج معالجے ، تعلیم، میرج اور ڈیتھ گرانٹ سمیت کئی قسم کی سہولیات ملتی ہیں تاہم لاکھوں کی تعداد میں کام کرنے والے مزدور ان سہولیات سے محروم ہیں۔ دوران ملازمت کسی بھی حادثے کی صورت میں جان سے جانے والے مزدوروں کو بھی بمشکل ان کا حق مل پاتا ہے ۔ تاہم محکمہ سوشل سکیورٹی کے تینوں زونز میں بیٹھے افسراپنے فرائض سے غافل ہیں اور مالکان کے ساتھ مل کر مزدوروں کے حقوق پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 28 دسمبر کو صوبائی وزیر لیبر فیصل ایوب نے دوران فیلڈ بے ضابطگیاں سامنے آنے پر سوشل سکیورٹی کے ڈائریکٹر (ایسٹ زون) انور الحق، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن محمد اصغر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ویسٹ زون) توقیر علی کو معطل کردیا تھا جبکہ ڈیپارٹمنٹ میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر مزید چھانٹیوں کی ضرورت ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں