قبرستانوں پر قبضے ، شہریوں کو تدفین میں مشکلات

 قبرستانوں پر قبضے ، شہریوں کو تدفین میں مشکلات

فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث شہری حدود کے بعد اب دیہی علاقوں میں موجود قبرستانوں میں بھی قبروں کی فروخت کا سلسلہ نہ رک سکا مختلف علاقوں میں 30 سے 50 ہزار روپے میں ایک قبر فروخت کی جاتی ہے پرانی قبروں سے باقیات نکال کر نئی قبریں بنائے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔۔۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث شہروں کے بعد اب دیہی علاقوں میں بھی گورکن مافیا زور پکڑ چکا ہے دیہی علاقوں میں موجود قبرستانوں میں بھی پیسے دئیے بغیر قبر کی جگہ کا حصول ناممکن ہوتا جارہا ہے متعدد دیہات میں قبر کی جگہ کے لیے بیس سے چالیس ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں قبرستانوں میں قبضہ مافیا نے بھی پنجے گاڑ رکھے ہیں قبرستانوں کے اندر قبضہ مافیا کی جانب سے پختہ تعمیرات بھی کی گئی ہیں بااثر افراد کی جانب سے قبل از وقت ہی متعدد قبروں کی جگہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے مختص کرلی گئی ہے جس کی وجہ سے اب دیہی علاقوں میں موجود قبرستانوں میں بھی فوت شدگان کی تدفین ایک مشکل کام بن چکا ہے دیہی عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل تو شہروں کے قبرستانوں میں ہی پیسے ادا کرنے پڑتے تھے اب یہ سلسلہ دیہات تک بھی پہنچ چکا ہے مہنگائی کے اس دور میں اپنے پیاروں کی تدفین بھی پیسوں کے بغیر نہیں کرسکتے اگر کوئی غریب فوت ہوجائے تو اس کے اہل خانہ کو میت گھر رکھ کر پہلے تدفین کے لیے پیسے ادھار لینے پڑتے ہیں اس کے بعد ہی قبر کی جگہ مل سکتی ہے دیہی عوام کا کہنا ہے بااثر افراد کی جانب سے قبل از وقت ہی متعدد قبروں کی جگہ پر قبضہ جما لیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اس جگہ پر اپنے پیارے کو دفن کرنے کی کوشش کرے تو لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں مگر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس سنگین مسئلے پر توجہ دینے کو ہی تیار نہیں ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں