آبی وفضائی آلودگی روکنے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کا فیصلہ

 آبی وفضائی آلودگی روکنے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کا فیصلہ

کمشنر کی زیرصدارت ڈویژنل انوائرمنٹل اپروول کمیٹی کا اجلاس،قابل عمل تجاویز طلب 11 پولٹری فارمز بنانے کے کیسز منظو،4 درکار این او سیز وشرائط کی عدم تعمیل پر موخر

فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)وزیراعلی ٰپنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق ڈویژنل انتظامیہ نے آبی وفضائی آلودگی کی روک تھام کے لئے نتیجہ خیز اقدامات یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں ماہرین سے قابل عمل تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں۔کمشنر فیصل آباد ڈویژن راجہ جہانگیر انور کی زیرصدارت ڈویژنل انوائرمنٹل اپروول کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پولٹری فارمز اور اینٹوں کے بھٹہ کے قیام کے حوالے سے منظوری کے امور کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر نے کہا کہ موثر اقدامات کی بدولت گزشتہ مہینوں میں سموگ کی صورتحال میں پہلے کی نسبت واضح فرق پڑا اور اینٹوں کے بھٹہ جات زگ ذیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہونے ،سپر سیڈرز کی بدولت فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے واقعات میں نمایاں کمی،فیول ٹیسٹنگ لیب کی طرف سے جانچ ودیگر اقدامات سے نتائج حاصل ہوئے تاہم آئندہ سالوں کے لئے مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے جس پر ابھی سے فیصلہ سازی کی جارہی ہے ۔کمشنر نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے الیکٹرک وہیکلز کے استعمال کو فروغ دیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں آئندہ نئے تعمیر ہونے والے پٹرول سٹیشن پر الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن لازمی ہوگا۔اسی طرح رات کے اوقات میں تعمیراتی میٹریل شہری علاقوں میں لے کر آنے والوں کے لئے حفاظتی اقدامات بھی لازمی ہونگے جس کے لئے پولیس اور انتظامیہ چیک پوسٹوں پر انفورسمنٹ بھی کریں گی۔کمشنر نے اجلاس میں 11 پولٹری فارمز کے قیام کے کیسز کی منظوری،4 کیسز کو درکار این او سیز وشرائط کی عدم تعمیل پر موخر کرتے ہوئے کہا کہ ڈویژن میں ماحول کی مطابقت کے تحت مختص جگہوں پر ہی فارم ہاؤس لگنے چاہئیں تاکہ سروسز کی فراہمی،ویسٹ کولیکشن میں آسانی،ماحولیاتی تحفظ یقینی ہو سکے اس ضمن میں ڈپٹی ڈائریکٹر تحفظ ماحول کو آرڈرز جاری کرنے کے اختیارات کی جانچ کی ہدایت کی گئی۔کمشنر نے کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ کاروباری فروغ کے لئے پرعزم اور درخواست گزاروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے پر پختہ یقین رکھتی ہے تاہم زرعی اراضی پر دالوں ودیگرفصلوں کا ختم ہونا بھی باعث تشویش اور فوڈ سکیورٹی جیسے مسائل پیدا کررہا ہے جس کیلئے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں