شرح سود میں اضافہ کاروبار کیلئے زہرِ قاتل :رہنماء جماعت اسلامی
سٹیٹ بینک کا فیصلہ بزنس کمیونٹی کیلئے مایوس کن :چودھری سلیم ، میاں طاہر ایوب روزگار کے مواقع، برآمدات اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہونگے :بیان
فیصل آباد (سٹی رپورٹر)جماعت اسلامی فیصل آباد کے رہنماؤں چودھری محمد سلیم اور میاں طاہر ایوب نے سٹیٹ بنک کی طرف سے شرح سود کو مزید ایک فیصد بڑھانے کے فیصلہ کو ملکی معاشی سرگرمیوں کیلئے زہرِ قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاروباری اور صنعتی حلقوں کو توقع تھی کہ شرح سود میں کمی کرکے اسے سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے گا لیکن سٹیٹ بینک نے ایک بار پھر بزنس کمیونٹی کی امنگوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی طویل عرصے سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ پالیسی ریٹ کو 9 فیصد تک لایا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے ، سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں، لیکن شرح سود میں اضافہ کرکے سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو مایوس کیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ کاروباری برادری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے ۔ پالیسی ریٹ میں نرمی نہ کرنے سے روزگار کے مواقع، برآمدات اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو ان مشکل حالات میں ریلیف دینا ناگزیر تھا، سٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 11.50 فیصد کی بلند سطح پر رکھنے کا فیصلہ کاروباری حلقوں کیلئے مایوس کن ہے ۔ سٹیٹ بینک نے معیشت کی بحالی کی امیدوں کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔ معیشت کو سہارا دینے کے بجائے شرح سود کو مستحکم رکھ کر کاروباری لاگت کو مزید بڑھا دیا گیا ہے جو کاروبار کی بقا کیلئے خطرہ بن سکتا ہے ۔