تھرپارکر کے علاقے کلوئی میں ڈینگی کے 30کیسز سامنے آگئے
سینکڑوں افراد تیز بخار میں مبتلا، گاؤں گرڑاہ میں 2سالہ بچے کی ہلاکت کی اطلاعبیماری کے تیزی سے پھیلاؤ پر علاقہ مکینوں کو تشویش، مناسب علاج سہولت نہیں
تھرپارکر (نامہ نگار)تھرپارکر کی تحصیل کلوئی میں ڈینگی کے 30 سے زائد کیسز سامنے آ گئے ، جبکہ سینکڑوں افراد تیز بخار میں مبتلا ہیں۔ یونین کونسل گرڑاہ کے دیہات گرڑاہ اور مورا ڈینگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ اور ایک بچے کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ، مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں نہ تو اسپرے مہم چلائی گئی اور نہ ہی طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جس کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ متوفی بچے واحد بخش ولد اعظم نہڑیو کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال مٹھی منتقل کیا گیا تھا، تاہم اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسپتال میں مناسب علاج نہیں ملا۔ بعد ازاں بچے کو حیدرآباد ریفر کرنے کا کہا گیا مگر ایمبولینس کی سہولت نہ مل سکی۔ اہل خانہ نجی ایمبولینس کے ذریعے بچے کو منتقل کر رہے تھے کہ وہ راستے میں نئون کوٹ کے قریب دم توڑ گیا۔ علاقہ مکینوں نے محکمہ صحت تھرپارکر پر غفلت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارہا اطلاع کے باوجود کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ ٹیسٹ کی سہولیات ہے ، نہ اسپرے کیا جا رہا ہے ، مقامی افراد نے حکومت سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔گاؤں کے مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ڈینگی کی یہ وبا مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بڑھنے کا خدشہ ہے۔