ترقی کیلئے عملی تحقیق اور جدت کی ضرورت ہے :فاروق یوسف
چیمبر حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مؤثر رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے
فیصل آباد (نیوز رپورٹر)پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط ناگزیر ہیں، کیونکہ موجودہ دور میں محض نظریاتی تعلیم کے بجائے عملی تحقیق اور جدت (انوویشن) کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین سمن آباد کی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر پاکستان کا تیسرا جبکہ پنجاب کا دوسرا بڑا چیمبر ہے ، جس کے 22 ہزار سے زائد ممبران 128 مختلف صنعتی و تجارتی شعبوں سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیمبر حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مؤثر رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے اور حالیہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے بھی حکومت کو جامع معاشی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا 67 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے اور کراچی کے بعد قومی خزانے میں سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے ۔ انہوں نے شہر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فیصل آباد کو بھی لاہور کی طرز پر مساوی ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے شہر میں آئی ٹی یونیورسٹی اور کینسر ہسپتال کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ خواتین آبادی کا تقریباً 51 فیصد ہیں، اس لیے قومی ترقی کیلئے خواتین اور نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں میں فعال کردار دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی حقیقی اسٹیک ہولڈر ہے ، لہٰذا حکومت کو معاشی پالیسی سازی میں تاجروں کی مشاورت کو شامل کرنا چاہیے ۔اس موقع پر گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین سمن آباد کے شعبہ اکنامکس کی سربراہ عاصمہ اکبر نے صدر چیمبر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کے لیے اس مطالعاتی دورے کا اہتمام ایک قابلِ تحسین اقدام ہے ، کیونکہ انہیں عملی مشاہدے اور صنعت سے براہِ راست آگاہی کی اشد ضرورت تھی۔