ڈویژن کو تمباکو نوشی سے پاک بنانے کے دعوے ادھورے

ڈویژن کو تمباکو نوشی سے پاک بنانے کے دعوے ادھورے

عملدرآمد کمیٹیوں کے فوری اجلاس بلانے ، کارروائیوں میں تیزی لانے کی ہدایت

فیصل آباد(خصوصی رپورٹر) فیصل آباد ڈویژن کو تمباکو نوشی سے پاک بنانے کے دعوے عملی شکل اختیار نہ کرسکے ۔ انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے ایک بار پھر کمشنر آفس میں اجلاس منعقد کرکے سخت کارروائیوں کی ہدایات جاری کردی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے کمشنر آفس میں اجلاس ہوا جس میں بتایا گیا کہ رواں ماہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے 198 چھاپوں کے دوران ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کو 26 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کیے ، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن نے 27 ہزار سے زائد غیر قانونی سگریٹ قبضے میں لیے ۔ شیشہ کے استعمال پر 17 سے زائد مقدمات بھی درج کیے گئے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں روزانہ 480 افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں جبکہ روزانہ 1200 بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 12 لاکھ افراد دوسروں کے تمباکو کے دھوئیں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اجلاس میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، پولیس، محکمہ ایکسائز، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے ۔ ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن تنویر مرتضیٰ نے ضلعی عملدرآمد کمیٹیوں کے فوری اجلاس بلانے ، کارروائیوں میں تیزی لانے اور ماہانہ رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی سگریٹ بازاروں میں دستیاب اور نوجوان نسل تک باآسانی پہنچ رہے ہیں تو محض اجلاسوں اور کارروائیوں کے اعداد و شمار کافی نہیں۔ ڈویژن کو تمباکو نوشی سے پاک بنانے کے لیے مسلسل، مؤثر اور بلاامتیاز عملی کارروائی ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...