ایل پی جی سرکاری نرخ سے ڈبل مہنگی ، شہری پریشان

ایل پی جی سرکاری نرخ سے ڈبل مہنگی ، شہری پریشان

مارکیٹ میں ایل پی جی 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی، گھریلو بجٹ متاثر ، پلانٹس سے لے کر دکانوں تک قیمتوں کی جانچ پڑتال کی جائے :شہریوں کا مطالبہ

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دیں۔ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر ہے ، جبکہ مارکیٹ میں گیس 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے ۔ 12 کلو کے گھریلو سلنڈر پر صارفین کو 3 ہزار 247 روپے 92 پیسے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ایک جانب سوئی گیس کی بندش اور لوڈشیڈنگ کے باعث شہری متبادل ایندھن کے طور پر ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، تو دوسری جانب اس کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے ۔ اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں گیس 550 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے ، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔سرکاری نرخ کے مطابق 12 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 352 روپے 8 پیسے بنتی ہے ، جبکہ مارکیٹ میں یہی سلنڈر 6 ہزار 600 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

اس طرح صارفین کو فی سلنڈر 3 ہزار 247 روپے 92 پیسے اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ایل پی جی استعمال کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں گیس کی قیمتوں میں بڑے فرق نے ان کے ماہانہ بجٹ کو مزید متاثر کر دیا ہے ۔دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ پلانٹس پر ہی گیس کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور انہیں مہنگے داموں ایل پی جی ملنے کے باعث وہ بھی زیادہ قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق پلانٹس کی سطح پر قیمتوں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں سرکاری نرخ پر گیس کی فروخت ممکن نہیں رہتی۔ تاہم، پلانٹس پر فروخت ہونے والی گیس کی قیمتوں اور خریداری کے ریکارڈ کی تصدیق ضروری ہے تاکہ صورت حال کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت اور مارکیٹ نرخ کے درمیان بڑے فرق کا نوٹس لیا جائے ، پلانٹس سے لے کر دکانوں تک قیمتوں کی جانچ پڑتال کی جائے اور مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف سرکاری قیمت مقرر کرنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل درآمد یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے اور بنیادی ضرورت کی اس گیس کی فروخت میں من مانی قیمتوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...