سینیٹ میں ہنگامہ،عابد شیر،اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی،اجلاس ملتوی،کرنا پڑا

سینیٹ میں ہنگامہ،عابد شیر،اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی،اجلاس ملتوی،کرنا پڑا

ایک دور تھا ہمارے وزیراعظم کا فون نہیں اٹھاتے تھے آج امریکی نائب صدر پاکستان آرہے ہیں :ن لیگی سینیٹراقبال اکیڈمی ترمیمی بل منظور، ملک میں 14ہزار 182ایچ آئی وی کیسز ،فوری توجہ نا گزیر، وقفہ سوالات

 اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ میں ہنگامہ ،مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر عابد شیر علی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا جس میں مختلف بلز اور قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں۔ایوان نے اقبال اکیڈمی (ترمیمی) بل 2026کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جبکہ سینٹر فار کلینیکل سائیکالوجی سینٹرز ایکٹ 1983 اور نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی ایکٹ 2022 میں ترامیم سے متعلق بلز مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دئیے گئے ۔ عابد شیر علی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایک دور تھا جب دیگر ممالک کے سربراہان ہمارے وزیراعظم کا فون نہیں اٹھاتے تھے اور آج امریکی نائب صدر پاکستان آرہے ہیں۔بھارت اور افغانستان کی طرف سے ہماری مسلح افواج پر حملے کئے جاتے ہیں، مولانا عطاء الرحمان کو افغانستان سے ہونے والے حملوں کی مذمت کرنی چاہئے ، ہماری مسلح افواج نے بھارت کو جو سبق سکھایا ان کی سات نسلیں یاد رکھیں گی۔ امن کے لیے ہمیں پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ،آج پاکستان بھارت کے خلاف اپنی فتح کا جشن منا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا ساتھ دینے والے پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے ۔

سینیٹر عابدشیر علی اور سینیٹر مولانا عطا الرحمان میں تلخ کلامی ہوئی جس پر صدر نشین شیری رحمان نے دونوں رہنماں کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اور ریاست کے خلاف یہاں نہ بات ہورہی ہے اور نہ ہوسکتی ہے ۔ اس دوران جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے امن و امان کی خراب صورتحال اور مولانا محمد ادریس کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر شیری رحمان نے مداخلت کرتے ہوئے اراکین کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت دی اور اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا۔ قبل ازیںوزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گیس قلت کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں اور بہارہ کہو میں 70 کروڑ روپے کی لاگت سے نئی گیس پائپ لائن بچھائی گئی ہے ۔

چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ ملک بھر میں 14 ہزار 182 ایچ آئی وی کیسز سامنے آنا باعثِ تشویش ہے اور اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اگر مزید سہولت درکار ہو تو عدالتی احکامات کی روشنی میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔ شیری رحمان نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم، غیرت کے نام پر قتل اور زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے جبکہ ایسے مقدمات میں سزا کی شرح صرف پانچ فیصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مزید مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں