ایمپریس مارکیٹ میں پرندوں کا بازار,یومیہ ہزاروں روپے کی خریدو فروخت
بجری ، کاک ٹیل ، لوبرڈ ، فاختائیں ، ہرے اور سرخ طوطے عوام کے گھروں کی زینت میں اضافے کاسبب بنتے ہیں
کاک ٹیل بہت صفائی پسند کہلاتاہے ،فیلو کاک ٹیل کا ایک جوڑا 35 سے 50 ہزار کا ہے ،فشر بھی ملک میں مشہور ہیں کراچی(رپورٹ:عابد حسین)بجری ، کاک ٹیل ، لوبرڈ ، فاختائیں ، ہرے اور سرخ طوطے ہر ہفتے لگنے والے بازاروں کے علاوہ ایمپریس مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر لگنے والے بازار میں خرید و فروخت کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ بجری جو آسٹریلین طوطے کے نام سے شہرت رکھتے ہیں اپنے منفردرنگوں کی وجہ سے کاروبار کے ساتھ ساتھ عوام کے گھروں کی زینت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں،ان کی نسلیں تیزی سے پروان چڑھتی ہیں اسی لیے یہ دلچسپی رکھنے والوں کو کاروبار کا موقع بھی فراہم کردیتے ہیں۔ان تمام پرندوں میں کاک ٹیل (طوطے کی قسم) بہت صفائی پسند پرندہ کہلاتاہے ۔ اس کا پنجرہ جتنا صاف ہوگا، وہ اتنی زیادہ نسل پیدا کریگا۔ گرے کاک ٹیل کا جوڑا 2500 روپے کا ہے جبکہ پیلے رنگ کا جوڑا 4 سے 5 ہزارروپے کا ہے ۔ کاک ٹیل میں سب سے مہنگا ‘فیلو کاک ٹیل’ ہے ۔ یہ سفید رنگ کا ہوتا ہے البتہ اس کے جسم پر گرے دھبے ہوتے ہیں اور اُس کی آنکھیں لال ہوتی ہیں۔ فیلو کاک ٹیل کا ایک جوڑا 35 سے 50 ہزار کا ہے ۔ اسی رنگت کا کالی آنکھوں والا کاک ٹیل ‘ اینو پائڈ’ کہلاتا ہے ۔ کاک ٹیل ایک بریڈ میں کم از کم دو انڈے دیتا ہے ۔ اس کا بریڈنگ سیزن ستمبر سے اپریل تک ہوتا ہے جس میں یہ انڈے بچے دیتا ہے ۔کاک ٹیل کے علاوہ پاکستان میں چھوٹے سائز کے طوطوں میں لَوبرڈ کافی مشہور ہے ۔ لَو برڈ کی ایک قسم فشر کہلاتی ہے ، جو مختلف رنگوں میں دستیاب ہے ۔ لَو برڈ یا فشر کے نر اور مادہ کی پہچان مشکل ہوتی ہے ۔ اس لیے انھیں کالونی (ایک نسل کے متعد د نر اور مادہ بڑے پنجرے میں رکھ کر جوڑے بنائے جاتے ہیں) میں رکھ کر پتا چلایا جاتا ہے کہ ان میں نر اور مادہ کون ہے ۔ اس کے بعد ان جوڑوں کو الگ الگ پنجروں میں رکھ کر بریڈنگ کی جاتی ہے ۔ فشر میں سب سے مہنگی قسم البینو پرسناٹا اور لوٹینو پرسناٹا ہے ۔ البینو مکمل طور پر سفید رنگ کا ہوتا ہے اور اُس کی آنکھیں لال ہوتی ہیں ،جب کہ لوٹینو پیلے رنگ کا ہوتا ہے اور اس کا منہ اور آنکھیں لال ہوتی ہیں۔ایک جوڑے کی قیمت 5 ہزار ہے ، جب کہ بلیو پرسناٹا 4 ہزار کا دستیاب ہوتاہے ۔ فنچ اور جاوا بھی اسی قسم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔گھروں میں پرندے پال کر کاروبار کرنے والوں میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے ۔ 12 سال کے بچے سے 70 سال کے بوڑھے تک اس کاروبار سے جُڑے ہوئے ہیں۔پرندوں کی خریدو فروخت طلبہ کے لیے بھی محدود آمدنی کا سبب بنتی جارہی ہے ،بیشتر طلبہ چھوٹے پیمانے پر پرندے پال کر ماہانہ 10 سے 20 ہزارروپے کمارہے ہیں۔