جیلوں میں منشیات کے عادی،جلد پولیس اسٹیشنز میں کریک ڈاؤن ہوگا:نگران وزیر داخلہ

جیلوں  میں  منشیات  کے  عادی،جلد  پولیس  اسٹیشنز  میں  کریک  ڈاؤن  ہوگا:نگران  وزیر داخلہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے آڈیٹوریم میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ کی جانب سے منشات کے استعمال کی روک تھام اور علاج کی پالیسی کے نفاذ کے منصوبے کی افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔۔۔

 جس میں نگراں وزیر داخلہ و جیل خانہ جات سندھ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز،نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز،نگراں وزیر تعلیم سندھ رعنا حسین اور نگراں وزیر قانون سندھ عمر سومرو سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔منصوبہ کے تحت صوبہ سندھ میں منشیات کے استعمال کے وسیع چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے ، جس میں روک تھام، علاج اور بحالی شامل ہے ۔بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ سندھ اور بالخصوص کراچی میں منشیات کی صنعتیں بند کردی ہیں،ضروری ہے کہ والدین بچے کی کیفیت میں تبدیلی پہچان کر ان کے تشخیصی ٹیسٹ کروائیں، والدین اور اساتذہ آگاہی بھی پھیلائیں،جیلوں میں بھی منشیات کے عادی افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں،ہم اس کے خلاف ایک ٹاسک فورس تشکیل دیں گے ،جلد پولیس اسٹیشنز میں بھی کریک ڈاؤن کریں گے ۔نگراں وزیر قانون سندھ عمر سومرو نے کہا کہ ایک ٹاسک فورس کے ساتھ بہت سے پلانز کی بھی ضرورت ہے ،بہت سے پولیس افسران ایسے ہیں جو آئس کی فیکٹریوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں،ہمیں اپنے اسٹاف کو بھی تربیت دینے کی ضرورت ہے ۔

ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے کہاکہ یہ کسی ایک محکمہ سے ممکن نہیں ،ہم سب متحد ہوکر ہی منشیات کے استعمال کی روک تھام کے اقدامات کرسکتے ہیں،نارتھ کراچی میں 200 بستروں پر مشتمل اے این ایف کو مرکز بناکر دیا ہے ،ہر ضلع میں ایک ایک بحالی مرکز بھی فعال کررہے ہیں،اس حوالے سے ایک قانون سازی نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجیں گے ۔تقریب کے بعد نگراں وزیر داخلہ سندھ نے ڈاکٹر سعد خالد نیاز کے ہمراہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس گیسٹروانٹرولوجی (سیاگ) کا دورہ کیا،نگراں وزیر صحت و سربراہ سیاگ ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے برگیڈئیر ر حارث کو مختلف وارڈز کا معائنہ کروایا۔وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا کہ اے این ایف تو منشیات کے خلاف اقدامات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے ، لیکن ریٹیل کی طرف سے ہمیں اقدامات لینے کی ضرورت ہے ،اس حوالے سے آن لائن کال سینٹرز بھی بنائے گئے ہیں۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں