محراب پور:خسرے نے 3کمسن بچیوں کی جان لے لی
گاؤں مانجھی اور رانجھو خان میں طاہرہ بتول، بی بی سوہنا، افسانہ لقمہ اجل بنیںشدید سردی سے خسرے کے ساتھ نمونیا، چھاتی، گلے ودیگر امراض میں اضافہ
محراب پور(نمائندہ دنیا)وبائی مرض خسرے نے تین معصوم جانیں لے لیں،جبکہ سینکڑوں معصوم بچے محکمہ صحت اور حکومت سندھ کے حفاظتی اقدامات کے منتظر ہیں، سندھ بھر اور نوشہرو فیروز، خیر پور اضلاع کے علاقوں میں جاری حالیہ شدید سردی کی لہر کے باعث خسرے کے ساتھ نمونیا، چھاتی، گلے اور دیگر امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے ،موذی مرض خسرے کے باعث چوبیس گھنٹوں میں تین معصوم بچوں کی اموات کے باوجود محکمہ صحت نے اقدامات نہیں کئے ، اکری کے گاؤں مانجھی خاص خیلی میں خسرے میں مبتلا دو سالہ طاہرہ بتول، گاؤں رانجھو خان خاص خیلی میں ڈیڑھ سالہ بی بی سوہنا،ایک سالہ بی بی افسانہ محکمہ صحت کی راہ تکتے تکتے زندگی کی بازی ہار گئیں۔
مقامی افراد اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آبزرور نوشہرو فیروز کے کوآرڈی نیٹر نے بتایا کہ سردی میں اضافے کے ساتھ ہی نوشہرو فیروز اور خیر پور کے اضلاع میں خسرے سمیت دیگر وبائی امراض نے وبائی صورت اختیار کرلی ہے ۔ میڈیا، سوشل میڈیا پررپورٹ آنے کے باوجود محکمہ صحت، حکومت سندھ نے حفاظتی اقدامات نہیں کئے ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ خسرے سے اموات کا نوٹس لیکر علاقے میں طبی ٹیمیں بھیجی جائیں۔