انسینیریشن پلانٹ کی مرمت اور بحالی کے منصوبے کا افتتاح

انسینیریشن  پلانٹ  کی  مرمت  اور بحالی  کے  منصوبے  کا  افتتاح

دس ٹن یومیہ صلاحیت کے حامل اس پلانٹ کے ذریعے طبی اور صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں تلف کیا جا سکے گا،میئر غیر قانونی ری سائیکلنگ اور طبی فضلے کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ، مرتضیٰ وہاب

کراچی (این این آئی) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ضلع کیماڑی ٹرانس لیاری میوہ شاہ میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے انسینیریشن پلانٹ کی مرمت اور بحالی کے منصوبے کا افتتاح کردیا،اس موقع پر کے ایم سی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، یوسی چیئرمین علی رضا رند، منتخب نمائندے اور دیگر بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں صنعتی فضلہ اور میڈیکل ویسٹ نالوں میں پھینکے جانے کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں حتیٰ کہ شہریوں کو ساحل سمندر پر استعمال شدہ انجکشن اور خون کے بیگز ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسے خطرناک فضلے کا غیر ذمہ دارانہ اخراج نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ تھا لہٰذا کے ایم سی نے 2025 میں انسینیریشن پلانٹ کی بحالی کا فیصلہ کیا اور دس ماہ کی مدت میں جدید سائیکلون ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے فعال بنا دیا گیا، دس ٹن یومیہ صلاحیت کے حامل اس پلانٹ کے ذریعے طبی اور صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں تلف کیا جا سکے گا۔

شہر میں روزانہ تقریباً پچاس ٹن انڈسٹریل اور میڈیکل ویسٹ پیدا ہوتا ہے جس کے مؤثر حل کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا،انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ انسینیریشن پلانٹ کی بحالی سے شہر میں طبی فضلہ محفوظ طریقے سے تلف ہوگا اور شہریوں کو صاف و محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انسینیریشن پلانٹ کو جدید سائیکلون ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے دھوئیں اور ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی،جدید کاربن مونو آکسائیڈ ڈائلیوشن سسٹم کے ذریعے مضر گیسوں کے اخراج کو کم سے کم سطح پر رکھا جائے گا اور محفوظ انداز میں اخراج یقینی بنایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ تمام اسپتالوں اور متعلقہ صنعتوں کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ خطرناک طبی فضلہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق تلف کریں، غیر قانونی ری سائیکلنگ اور طبی فضلے کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ عملہ عالمی سیفٹی اسٹینڈرڈ کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جن صنعتوں اور اسپتالوں کے پاس فضلہ تلف کرنے کی سہولت موجود نہیں وہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ساتھ رابطہ کریں۔انہوں نے کہاکہ ہماری مدت کا ڈیڑھ سال ابھی باقی ہے اور ہم شہر چھوڑ کر جانے کے لیے نہیں آئے بلکہ خدمت کے لیے آئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں