روہڑی:سرکاری نرخ پرگندم نہ خریدنے کیخلاف کسان سراپا احتجاج

روہڑی:سرکاری نرخ پرگندم نہ خریدنے کیخلاف کسان سراپا احتجاج

فلور ملز مالکان، ذخیرہ اندوز 27سو سے 3000ہزار روپے میں خرید رہے ہیں، رہنمادیہہ کچو علی واہن ودیگر علاقوں میں ہاری کارڈ سمیت دیگر سہولیات بھی نہ ملنے کاشکوہ

روہڑی(نمائندہ )روہڑی کی دیہہ کچو علی واہن کے کسانوں نے گندم سرکاری نرخوں پر نہ خریدنے اور ہاری کارڈ وزرعی سہولیات نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی، اس ضمن دیہہ کچو علی واہن کے مختلف علاقوں منڈودیرو ماڑی گاؤں خرم جاگیرانی ودیگر علاقوں کے کسانوں نے راضی خان جاگیرانی، رئیس بلوچ اور دیگر کی قیادت میں محکمہ خوراک اور زراعت کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی، مظاہرین نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صوبائی محکمہ زراعت اور خوراک کی جانب سے انہیں زرعی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے فی من گندم کا نرخ 3500 روپے مقرر ہونے کے باوجود محکمہ خوراک کسانوں سے گندم نہیں خرید رہا، جس کی وجہ سے وہ فلور ملز مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کو 27 سو سے 3000 روپے من میں دو سے تین کلو کٹوتی کے ساتھ گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے انہیں شدید مالی نقصان اٹھانہ پڑ رہا ہے ، کسانوں نے بتایا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث وہ پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلی مراد علی شاہ، وزیر زراعت و خوراک سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں سے سرکاری نرخ پر گندم کی خریداری شروع کی جائے ، کچے کے کسانوں کو بھی ہاری کارڈ سمیت دیگر زرعی سہولیات فراہم کی جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں