مورو میں قاتل کوسزائے موت، 4لاکھ روپے جرمانہ عائد
سیشن جج کا فیصلہ، اقبال نے کم عمر لڑکے جمیل کوقتل کیا، جرم ثابت ہوگیاساتھیوں سے ملکر منصوبے کے تحت واردات، ناقابل معافی جرم، عدالت
کنڈیارو (نمائندہ دنیا)مورو میں قاتل کو سزائے موت اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی، ایڈیشنل سیشن جج مورو کی عدالت نے قتل کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم محمد اقبال ولد حاجی حیات دل کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا ئی۔ مقدمہ 317/2018 تھانہ مورو میں درج تھا، جس میں ملزم پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت ایک کم عمر لڑکے محمد جمیل کے قتل کا الزام تھا۔ دورانِ سماعت استغاثہ نے مضبوط شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر مقدمہ ثابت کیا، جس پر عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے دیگر نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ مشترکہ ارادے کے تحت منصوبہ بندی کے ذریعے واردات کی، جو ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔
عدالت نے سزائے موت کا حکم دیا جو سندھ ہائی کورٹ کی توثیق سے مشروط ہوگا۔ علاوہ ازیں عدالت نے 4 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جو مقتول کے ورثاء کو بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ عدالت نے جیل حکام کو ہدایت دی ہے کہ مجرم کو سزا پر عملدرآمد کے لیے سینٹرل جیل سکھر منتقل کیا جائے ، جبکہ فیصلے کی مصدقہ نقل مجرم کو بلا معاوضہ فراہم کی جائے ۔ترجمان پولیس نوشہروفیروز کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کی ایک اہم مثال ہے ، جو جرائم پیشہ عناصر کے لیے واضح پیغام ہے کہ قانون سے کوئی نہیں بچ سکتا۔