سکھر:سبزی منڈی مسائل کے گرداب میں، بیوپاریوں کومشکلات
منڈی میں بدانتظامی، بھتہ خوری کے سنگین مسائل، ڈرائیورز مبینہ مافیا کے رحم پرداخل ہونیوالی ہرگاڑی سے ٹیکس کے نام پر100روپے طلب، اندر بھی وصولی
سکھر(رپورٹ:شنکرلعل وادھوانی)سکھر میں سندھ کی دوسری بڑی سبزی منڈی میں بدانتظامی اور مبینہ بھتہ خوری کے سنگین مسائل سامنے آئے ہیں، جہاں دور دراز علاقوں سے سبزیاں لے کر آنے والے کسان اور لوڈر ڈرائیورز مبینہ طور پر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔ منڈی میں داخل ہوتے ہی ان محنت کشوں سے مختلف مدات میں زبردستی رقم وصول کی جا رہی ہے ، جس کے باعث ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ، بیوپاریوں کے مطابق سبزیوں سے لدی ہر لوڈر گاڑی سے ٹیکس کے نام پر 50 سے 100 روپے تک بھتہ لیا جاتا ہے ، جبکہ منڈی کے اندر مختلف مقامات پر بار بار رقم وصولی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ریڑھی بان اور دیگر چھوٹے تاجر بھی اس غیر قانونی عمل سے محفوظ نہیں،یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب سبزی منڈی کے لیے کروڑوں روپے کے ٹینڈرز جاری ہونے کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان برقرار ہے ۔ منڈی میں صفائی، سڑکوں کی خستہ حالی اور دیگر مسائل جوں کے توں موجود ہیں،تاجر برادری اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ سندھ، اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ ساتھ ہی ٹینڈر سسٹم کی شفاف انکوائری کرانے اور منڈی میں صفائی، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔