بلدیہ فیکٹری کیس ،فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی، جماعت اسلامی
بری ہونے والے مجرم نہیں تو پھر259افراد کے قاتل کون ہیں؟ سیف الدین عدالتوں کے متضاد فیصلوں نے کارروائیوں کے معیار پر سوال اٹھا دیے ، ردعمل
کراچی (اسٹاف رپورٹر)قائم مقام امیر جماعت اسلامی سیف الدین ایڈووکیٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مقدمے میں ایم کیو ایم کے عبدالرحمن بھولا اور زبیر عرف چریا کی بریت کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی، ہم کسی بے گناہ کی سزا نہیں چاہتے لیکن جو بھی اس سانحہ کا ذمہ دار ہے اس کا سخت احتساب چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر رپورٹ بنانے والوں نے غلط جے آئی ٹی رپورٹ بنائی تو پھر ان کوسزا ملنی چاہیے کہ انہوں نے اتنے بڑے کیس کو خراب کیوں کیا، جو لوگ بری ہوئے اگر یہ مجرم اور قاتل نہیں تھے تو پھر 259افراد کے قاتل کون تھے ؟ یہ فیصلہ سپریم کورٹ تک جانے تک جتنی بھی جے آئی ٹی رپورٹ تھیں وہ غلط ثابت ہوگئی تو پھر ہائی کورٹ نے کیا چیز دیکھی تھی اور اس سے نیچے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بھی فیصلہ دیا تھا۔ اگر یہ ہی عدالتی کارروائیوں کا معیار ہے کہ ایک عدالت سزائے موت کا ملزم قرار دیتی ہے ، ایک مجرم اور ایک عدالت اسی کو بے گناہ قرار دیتی ہے تو پھر عدالتی کارروائیوں کا معیار کیا ہے ؟ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس مقدمے میں 25کروڑ روپے کا بھتہ مانگنے کے حوالے سے لین دین کے سارے معاملات بھی سامنے آگئے تھے تو پھر یہ بھتہ مانگنے کا معاملہ کہاں چلا گیا؟ فیصلے کے بعد متاثرین کہاں کھڑے ہیں۔