مبینہ کرپشن کیس:ضمیر عباسی عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

مبینہ کرپشن کیس:ضمیر عباسی عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل

اینٹی کرپشن عدالت نے درخواست ضمانت پر سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کر دئیےبی آر ٹی منصوبے میں کرپشن کیس میں سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مقدمے کی سماعت

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ کرپشن کیس میں سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جبکہ ان کی درخواست ضمانت پر سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی۔صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ اینٹی کرپشن حکام نے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر شیر زمان نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے ، جس پر عدالت نے ضمیر عباسی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے استفسار کیا کہ تفتیش میں کیا پیشرفت ہوئی ہے ، جس پر انہوں نے بتایا کہ ملزم سے 128 سوالات کیے جا چکے ہیں۔ اس موقع پر ضمیر عباسی نے کہا کہ اس کیس میں 6تفتیشی افسران ہیں۔عدالت نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ تفتیشی افسر ہیں، آپ کی کچھ ٹیوننگ میڈیا نے کر دی ہے ، آپ اب کچھ کریں گے ؟ عدالت نے مزید استفسار کیا کہ منصوبے کا کنسلٹنٹ کون ہے ۔

جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ کنسلٹنٹ نیسپاک ہے ۔ کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم کے ایک رکن نے عدالت کو بتایا کہ معاہدے میں ادائیگی کا باقاعدہ طریقہ کار موجود تھا، تاہم بینک گارنٹی کے بغیر ادائیگی کی گئی، جو محفوظ طریقہ کار نہیں تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا 90 روز میں تحقیقات مکمل ہو جائیں گی، جس پر ٹیم کے رکن نے بتایا کہ کوشش ہے مقررہ مدت سے پہلے ہی انوسٹی گیشن مکمل کر لی جائے ۔ عدالت نے ضمیر عباسی سے کہا کہ جو سوال نامہ آپ کو دیا گیا ہے ، لگتا ہے وہ سوالات کسی کام کے نہیں تھے ۔ اس پر ضمیر عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر بینک گارنٹی کے بغیر ادائیگی کا الزام لگایا جا رہا ہے ، حالانکہ کنسلٹنٹ کون تھا، یہ سب کو معلوم ہے ۔ انہوں نے کہا حکومت کو ایک روپے کا بھی نقصان نہیں ہوا، اگر نقصان ثابت ہو جائے تو وہ ہر سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ورلڈ بینک نے فنڈز کے درست استعمال پر سوال کیوں اٹھایا، جس پر ضمیر عباسی نے بتایا کہ ہر تین ماہ بعد ورلڈ بینک کا مشن آتا تھا اور ان کے دور میں تین مشن آئے ۔ ان کے مطابق ورلڈ بینک نے ڈسپرسمنٹ بڑھانے کی ہدایت کی تھی، بصورت دیگر مزید فنڈز جاری نہ کرنے کا کہا گیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر تمام کام قانون کے مطابق ہوئے تو پھر یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی۔

ضمیر عباسی نے جواب دیا کہ وہ ہر مرتبہ ورلڈ بینک کے وفد کو منصوبے کی سائٹ کا دورہ کراتے تھے ۔ اس پر عدالت نے کہا، آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہی ورلڈ بینک والوں کو ہینڈل کر سکتے ہیں، اتنا اعتماد بھی مناسب نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت پر 11 جولائی کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 13 جولائی تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کو آئندہ سماعت پر ملزم کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دیا، جبکہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اینٹی کرپشن حکام ضمیر عباسی کو سینٹرل جیل منتقل کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں