آٹے کی قیمتوں پر تنازع شدید، سرکاری نرخ مسترد

آٹے کی قیمتوں پر تنازع شدید، سرکاری نرخ مسترد

کمشنر کے نوٹیفکیشن کے باوجود آٹا مہنگے داموں فروخت، بحران کا خدشہمہنگی گندم پر سستا آٹا فروخت کرنا ممکن نہیں،فلور ملز ،چکی ایسوسی ایشن

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)آٹے کی قیمتوں پر انتظامیہ اور مینوفیکچررز کے درمیان تنازع شدید ہو گیا ، فلور ملز اور چکی مالکان نے کمشنر کراچی کے نئے نرخ ماننے سے انکار کردیا۔ کمشنر کراچی کی جانب سے آٹے کے نئے سرکاری نرخ جاری کیے جانے کے باوجود فلور ملز اور آٹا چکی مالکان نے انہیں تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے ۔مارکیٹ میں آٹا سرکاری قیمتوں کے بجائے انتہائی زائد نرخوں پر فروخت کیا جا رہا ہے جس سے شہریوں کی جیبوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے ۔کمشنر کے نوٹیفکیشن اور اوپن مارکیٹ کی حقیقی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق سامنے آیا، ریگولر آٹے کی ریٹیل قیمت 125 روپے فی کلو، فائن آٹے کی ریٹیل قیمت 135 روپے اور چکی آٹا کی قیمت 145 روپے فی کلومقرر کی ہے۔

مارکیٹ میں ڈھائی نمبر آٹا 145 سے 150 روپے ، فائن آٹا 160 سے 170 روپے جبکہ چکی آٹا 170 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے ۔فلور ملز اور آٹا چکی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، مہنگی گندم خرید کر سرکاری نرخ پر آٹا فروخت کرنا ہمارے لیے کسی طور ممکن نہیں ہے ، اگر انتظامیہ نے زبردستی کی تو موجودہ حالات میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔عوام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹا مہنگا ہونے سے روٹی، نان اور آٹے سے تیار ہونے والی دیگر اشیائے خورونوش بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی جس سے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں