سندھ تقسیم کی ہرتجویز مسترد، تاریخی وحدت ناقابل سمجھوتہ ، لاڑکانہ بار
این سی سی آئی اے کے ایاز لطیف کونوٹس پر تشویش، سیاسی رائے کا اظہار جرم نہیںحکومت نوٹس واپس لے ، رہنما، تقسیم کی کسی بھی کوشش کیخلاف مزاحمت کا عزم
لاڑکانہ(بیورورپورٹ)سندھ ہائی کورٹ بار لاڑکانہ نے سندھ کی تقسیم یا صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم سے متعلق تجاویز، مباحث اور بیانیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے سندھ کی تاریخی وحدت اور علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیا ہے ، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اطہر عباس سولنگی کی جانب سے جاری قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بار ایسوسی ایشن کسی بھی پلیٹ فارم سے سندھ کی تقسیم یا صوبے کو مختلف حصوں میں بانٹنے سے متعلق کسی بھی تجویز، بحث یا بیانیے کی بھرپور مذمت اور مکمل مخالفت کرتی ہے ، قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ کی تاریخی سرحدیں، وحدت اور علاقائی سالمیت قطعی اور ناقابل سمجھوتہ ہیں جبکہ سندھ کا کوئی بھی فرد ایسے مذموم بیانیے کو برداشت یا قبول نہیں کرے گا۔
لاڑکانہ کی قانونی برادری نے سندھ کی وحدت کیخلاف کسی بھی کوشش کیخلاف بھرپور اور غیر متزلزل مزاحمت کا عزم ظاہر کیا،سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن لاڑکانہ نے پاکستان بار کونسل کی قرارداد نمبر 2 پر بھی شدید اعتراض اور اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ کی علاقائی سالمیت یا وحدت پر سمجھوتے پر مبنی کوئی بھی قرارداد سندھ کی قانونی برادری کی خواہشات کی نمائندگی نہیں کرتی، ایاز لطیف پلیجو کو این سی سی آئی اے کے نوٹس پر بھی شدید مذمت کرتے ہوئے قرارداد میں سینئر سیاستدان اور دانشور ایاز لطیف پلیجو کو نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے نوٹس جاری کرنے اور طلب کیے جانے کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments