ناقص طبی سروس، نجی اسپتال پر 5 لاکھ ہرجانہ

ناقص طبی سروس، نجی اسپتال پر 5 لاکھ ہرجانہ

شکایت کنندہ کو2 لاکھ روپے عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم ،عدالت نے اسپتال کو تقریباً 18 لاکھ روپے کے اضافی بل کی وصولی سے بھی روک دیا اسپتال کا اپنا ڈاکٹر واضح نہیں کرسکا کہ ایکسرے میں درست پوزیشن میں موجود سینٹرل وینس کیتھیٹر دو سے تین روز بعد غلط شریان میں کیسے پہنچ گیا،فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کراچی شرقی نے اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال کے خلاف ناقص طبی سروس کی فراہمی کے کیس میں شکایت کنندہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسپتال کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ اور 2 لاکھ روپے عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے اسپتال کو تقریباً 18 لاکھ روپے کے اضافی بل کی وصولی سے بھی روک دیا۔ کنزیومر پروٹیکشن کورٹ کراچی شرقی کے جج زوہیب حسین نے زبیدہ بائی کی جانب سے نجی اسپتال کے خلاف دائر شکایت کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اسپتال کا اپنا ڈاکٹر یہ وضاحت نہیں کرسکا کہ ایکسرے میں درست پوزیشن میں موجود سینٹرل وینس کیتھیٹر (CVC) دو سے تین روز بعد غلط شریان میں کیسے پہنچ گیا، اس لیے کیتھیٹر کے معاملے میں اسپتال کی ناقص سروس ثابت ہوتی ہے ۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق 90 سال سے زائد عمر کی زبیدہ بائی کو اپریل 2024 میں کولہے کی ہڈی کے علاج کے لیے اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال لایا گیا تھا، جہاں 30 اپریل کو ان کا ہپ ریپلیسمنٹ آپریشن کیا گیا۔

عدالت کے مطابق ہپ ریپلیسمنٹ سرجری کامیاب رہی اور اس میں کسی قسم کی غفلت ثابت نہیں ہوئی۔ درخواست گزار کے مطابق آپریشن کے بعد مریضہ کا بلڈ پریشر کم ہونے پر یکم مئی 2024 کو انہیں سینٹرل وینس کیتھیٹر لگایا گیا۔ کیتھیٹر لگانے کے بعد کیے گئے ایکسرے میں اس کی پوزیشن درست قرار دی گئی، تاہم دو سے تین روز بعد مریضہ کو بٹھانے کے دوران اچانک طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں بے ہوشی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ مریضہ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر معلوم ہوا کہ کیتھیٹر غلط شریان میں چلا گیا تھا۔

کیتھیٹر کو فوری طور پر بستر پر نکالنا خطرناک تھا، جس کے باعث 4 مئی کو مریضہ کو آپریشن تھیٹر لے جاکر کیتھیٹر نکالنے اور شریان کی مرمت کے لیے سرجری کرنا پڑی۔ درخواست گزار کے مطابق کیتھیٹر نکالنے کی سرجری کے بعد مریضہ کو فالج ہوگیا اور وہ شدید طور پر مفلوج ہوگئیں۔ اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ کیتھیٹر کی غلط تنصیب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث مریضہ کو شدید نقصان پہنچا ۔تاہم عدالت نے فالج اور کیتھیٹر کی غلط پوزیشننگ کے درمیان براہ راست طبی تعلق ثابت ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مریضہ کی جانب سے فالج کی وجہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ماہر طبی شہادت پیش نہیں کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...