نئے سرمایہ کاری ادارے کے اختیارات غیرواضح ، پیچیدگی کاخدشہ
پی بی آئی ٹی کے ہوتے ہوئے گلوبل انویسٹمنٹ کے قیام سے نئی بحث چھڑ گئی
لاہور (شیخ زین العابدین)پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قائم دو سرکاری ڈھانچے اب اختیارات کی نئی بحث کا مرکز بن گئے ہیں،ایک طرف 2009 میں قائم ہونے والا پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ہے اور دوسری جانب رولز آف بزنس میں ترمیم کے بعد وجود میں آنے والا نیا گلوبل انویسٹمنٹ اینڈ گیٹ وے آف پنجاب ونگ۔ یہ ادارہ کمپنیز آرڈیننس 1984 کے سیکشن 42 کے تحت ایک غیر منافع بخش کارپوریٹ باڈی کے طور پر تشکیل دیا گیا، جس کا بنیادی مقصد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا، ون ونڈو آپریشن کے ذریعے این او سیز میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرنا اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا تھا۔اس کے علاوہ پالیسی اصلاحات، کاروباری آسانی، ریگولیٹری جائزہ، موجودہ سرمایہ کاروں کی ری انویسٹمنٹ اور شکایات کے ازالے کے معاملات بھی اسی دائرہ اختیار میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بڑے غیر ملکی منصوبوں پر تیز رفتار فیصلوں اور براہ راست نگرانی کے لیے یہ نیا انتظامی ماڈل اختیار کیا گیا ہے ، تاہم اختیارات کی واضح حد بندی نہ ہونے کی صورت میں دوہرا ڈھانچہ انتظامی پیچیدگی کو جنم دے سکتا ہے ۔