ریلوے کا بو سیدہ نظام،ٹرین آپریشن نا کا م

ریلوے کا بو سیدہ نظام،ٹرین آپریشن نا کا م

ملتان(شفقت بھٹہ)ریلوے حکام ٹرینوں کی آمدورفت کی شرح 100 فیصد کرنے میں ناکام ہو گئے ، رولنگ سٹاک اور انفراسڑکچر کی تباہ حالی ٹرین آپریشن میں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ حادثات کی بھی بنیادی وجہ بن گئی۔

 ٹرین آپریشن میں مشکلات اور حادثات کی تین بڑی وجوہات میں سرِفہرست ریلوے ٹریک سے متعلقہ مسائل ہیں جبکہ انجن اور بوگیاں (رولنگ سٹاک)اور ریلوے سگنل کا نظام بھی اس کی وجہ بنتا ہے ۔ اسی طرح ریلوے کو افرادی قوت کی کمی کا بھی سامنا ہے ، ریلوے میں 23 ہزار سے زائد ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل سٹاف کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، ڈرائیورز، اسسٹنٹ ڈرائیورز اور سگنل سٹاف کی کمی کا سامنا ہے ۔ ریلوے کے 66 فریٹ لوکوموٹوز میں سے صرف 20 دستیاب ہوتے ہیں جبکہ ریلوے کی 63 فیصد سے زائد فریٹ ٹرینیں 45 سال سے بھی پرانی ہیں۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے ریلوے انجنوں کی مرمت کا کام متاثر ہوتا ہے ، جبکہ ریلوے کے 50 فیصد پرانے انجن تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ماضی میں اس طرح کے پراجیکٹس نہیں بنائے گئے جس نوعیت کی سسٹم کو بحالی کی ضرورت تھی۔ 800 ویگنز اور 300 کوچز کی خریداری ابھی تک عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ پرانے سسٹم میں خرابی کی وجہ سے آئے روز حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ 1953 سے لے کر اب تک 42 بڑے حادثات پیش آچکے ہیں جن میں 1476 افراد جاں بحق جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ۔ سب سے زیادہ 29 حادثات گزشتہ دو دہائیوں میں پیش آئے جن میں 612 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 1953 سے 1997 تک 13 خوفناک حادثات میں 900 سے زائد افراد جاں کی بازی ہار گئے ۔ ان کے کے علاوہ چھوٹے چھوٹے حادثات کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ ان تمام حادثات کی بنیادی وجہ ریلوے کا بوسیدہ نظام ہی تھا۔ سب سے زیادہ حادثات سندھ میں ہوئے جہاں ریلوے لائنیں ریلوے آپریشن کے قابل ہی نہیں رہیں مگر ریلوے کے اعلیٰ افسران اور حکومتیں مسلسل چشم پوشی اختیار کرتی آ رہی ہیں۔ دریں اثناء ریلوے حکام کی انفراسٹرکچر اور رولنگ سٹاک کی مرمت پر عدم توجہ اور دیگر وجوہات کے باعث گزشتہ ماہ جنوری میں مسافر ٹرینوں کی بروقت آمدورفت کی شرح 25 فیصد رہ گئی جبکہ ملک بھر میں چلنے والی 1012 مسافر ٹرینوں میں سے 764 تاخیر کا شکار ہوئیں۔ ریلوے انتظامیہ کے دھند میں دیکھنے کی صلاحیت کے حامل آلات تیار کرنے کے دعووں کے برعکس ملک میں جاری شدید دھند اور دیگر وجوہات کے باعث اس سال موسم سرما میں بھی ٹرین شیڈول بری طرح متاثر رہا۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں