شہر کے 175 واٹر فلٹریشن پلانٹ خراب شہری صاف پانی سے محروم
انتظامیہ نے بند واٹرفلٹریشن پلانٹ کی ذمہ داری چیمبر آف کامرس اور واسا کے سپر د کی ، صورتحال میں بہتری نہ آسکی ، صاف پانی کے حصول میں شہری دربدر، نوٹس کا مطالبہ
ملتان (سٹاف رپورٹر ) شہر میں مختلف مقامات پر ایک سو پچہتر خراب واٹر فلٹریشن پلانٹس بند ، ملحقہ آبادیوں کے ہزاروں مکین صاف پانی کی سہولت سے محروم ، اب پاک اتھارٹی بھی بند پلانٹس کو چلانے کی ذمہ داری پوری نہ کر سکی۔ضلعی انتظامیہ کے حکام بھی صورتحال اور متعلقہ اتھارٹی کی کارکردگی سے پریشان ۔بند واٹر فلٹریشن پلانٹ کے ارد گرد کے مکینوں نے حکومت سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا تفصیل کے مطابق ضلع ملتان میں مجموعی طور پر تین سو اسی واٹر فلٹریشن پلانٹس ہیں جن میں سے ایک سو پچہتر واٹر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں جن کو چلانے کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ نے کارپوریشن کو دی لیکن بعد ازاں چیمبر آف کامرس اور واسا کو سپرد کر دی گئی تاہم اس کے باوجود خراب واٹر فلٹریشن پلانٹس کو تاحال فعال نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے صاف پانی کے حصول کے حوالے سے شہریوں کی مشکلات برقرار ہیں ۔دوسری جانب ایم ڈی واسا فیصل شوکت کا موقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں بند پلانٹس کو چلانے کی ذمہ داری اب پاک اتھارٹی کے سپرد کر دی گئی ہے اور جلد ہی بند پلانٹس کو چلا کر صاف پانی کی دستیابی یقینی بنا دیں گے لیکن ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق کا کہنا ہے کہ بند واٹر فلٹریشن پلانٹس کو چلانے کے کے حوالے سے متعلقہ اتھارٹی کے حکام نے غلط اعداد و شمار دیئے جس پر تحفظات ہیں اور رہی سہی کسر مختلف تعلیمی اداروں کے باہر لگائے گئے سو واٹر فلٹریشن پلانٹس بند ہونے سے پوری کر دی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی صاف پانی کی دستیابی کے حوالے سے شکایات کافی حد تک بڑھ گئی ہیں ۔