گیلانی لا کالج تاریخی ورثہ،اصلاحات کی مثال، سمزا فاطمہ
سپریم کورٹ کی ہدایت پر 50نجی لاء کالجز ڈی افیلیٹ کئے ، نئے سنٹرز بنانے
ملتان (کورٹ رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں قائم گیلانی لا کالج تاریخی ورثہ، اعلیٰ میرٹ اور جدید اصلاحات کی کامیاب مثال ہے ۔یونیورسٹی نے متعدد چیلنجز پر قابو پایا ہے۔ تقریباً 50 نجی لا کالجز کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر ڈی افیلیٹ کیا جس کے بعد ملتان، وہاڑی اور دیگر شہروں میں لا سٹڈی سینٹرز قائم کئے گئے جہاں پرطلبہ کے لئے خصوصی کلاسز اور سمر سیشنز شروع کئے ہیں۔
لا سٹڈی سینٹر انچارج ڈاکٹر سمزا فاطمہ،ڈاکٹر سمزا کا کہنا ہے کہ پوری یونیورسٹی کو سولر پر منتقل کیا جس کے باعث بی زیڈ یونیورسٹی اب انرجی بحران سے نکل آئی ہے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی لا کالج سٹڈی سینٹر کی سربراہ ڈاکٹر سمزا فاطمہ کے مطابق گیلانی لا کالج نے تعلیمی میدان میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے ۔ یہ ادارہ 1971 میں قائم ہوا، جو خود یونیورسٹی کے قیام (1975) سے بھی پہلے کا ہے ، اور اس لحاظ سے ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے ۔ سید علمدار حسین گیلانی نے اس ادارے کی بنیاد رکھی،سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دور میں لا کالج کی نئی عمارت منظور اور تعمیر ہوئی۔100 سکالرشپس یونیورسٹی کو دی گئیں۔
لا فیکلٹی کے لئے 10 خصوصی سکالرشپس بھی فراہم کی گئیں۔گرلز و بوائز ہاسٹلز اور ٹرانسپورٹ کی سہولت دی گئی جس کے باعث بی زیڈ یو کے اس لا کالج کے داخلوں میں اضافہ ہوا اور اب کالج کا میرٹ بھی کافی زیادہ ہے ۔گیلانی لا کالج ملک بھر میں زیادہ داخلوں کے حوالے سے اب نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ قانون کی ڈگری کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستان بار کونسل نے لا کالج کی سیٹوں میں بھی اب مزید اضافہ کیا ہے جس کے بعد 50 سیٹیں بڑھا دی گئیں ہیں۔