4سال بعد ڈکیتی کی متاثرہ خاتون انصاف سے محروم

 4سال بعد ڈکیتی کی متاثرہ خاتون انصاف سے محروم

رفعت بیٹے کے ساتھ جا رہی تھی ڈاکوئوں نے لوٹ لیا ، ملزم پکڑے نہ جا سکے

 میاں چنوں (سٹی رپورٹر) میاں چنوں میں چار سال قبل ڈکیتی کا شکار ہونے والی خاتون رفعت کلثوم مسلسل پولیس پیشیوں اور ذہنی اذیت سے تنگ آ کر انصاف کی فراہمی کی منتظر رہ گئی۔ متاثرہ خاتون نے پولیس افسران کو تحریری درخواست دیتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی ہے کہ انہیں بار بار کی پیشیوں اور ذہنی اذیت سے نجات دلائی جائے ۔ رفعت کلثوم کے مطابق چار سال قبل وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیے جا رہی تھیں کہ بھرے بازار میں دن دہاڑے ڈاکو انہیں لوٹ کر زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے ۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہونے کے باوجود چار برس گزرنے کے بعد بھی ملزمان گرفتار نہیں کیے جا سکے اور نہ ہی مقدمے میں کوئی مؤثر پیش رفت سامنے آئی۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کی امید میں گزشتہ چار سال سے تھانے ، پولیس افسران کے دفاتر اور مختلف پیشیوں کے چکر لگا رہی ہیں، مگر انہیں ریلیف نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ درج کرانے کے باوجود انصاف ملنے کے بجائے وہ خود مشکلات اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ مقدمے کی فوری اور شفاف تفتیش کر کے انصاف فراہم کیا جائے یا انہیں غیر ضروری پیشیوں سے نجات دلائی جائے تاکہ مزید ذہنی اذیت سے محفوظ رہ سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں