افسران کی ملی بھگت سے نہری پانی چوری کر کے فروخت کرنیکاانکشاف

افسران کی ملی بھگت سے نہری پانی چوری کر کے فروخت کرنیکاانکشاف

افسران کی ملی بھگت سے نہری پانی چوری کر کے فروخت کرنیکاانکشاف ہر گھر سے ماہانہ 6 سے 7 ہزار روپیہ وصول کیے جاتے ہیں، ٹینکر مافیا نے پمپ لگا رکھے

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی پینے کے صاف پانی کی ڈیمانڈ میں روزباروزاضافہ کے تناظر میں کمزور چیک اینڈ بیلنس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ،شہر کے مختلف علاقوں میں پرائیویٹ اشخاص نے منظم طریقہ سے محکمہ انہار، کارپوریشن سرگودھا کے افسران و ملازمین کی ملی بھگت سے نہروں،راجباہوں کے اندر، ملحقہ سرکاری جگہ سے میٹھے ،صاف پانی چوری کر کے شہر کے مختلف علاقوں میں مہنگے داموں فروخت کر نے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ، ذرائع کے مطابق نہر لوئر جہلم کینال،ڈسٹی چک نمبر 49 شمالی ٹیل،راجباہ خضر آباد روڈ چک نمبر 50 شمالی،گل والا سمیت مختلف علاقوں میں نہروںراجباہوں کے اندر کناروں پر واٹر پمپ مستقل بنیادوں پر نصب ہیں، جو کہ بذریعہ پیٹر انجن چلائے جاتے ہیں اور پانی چوری کر کے وسیع پیمانہ پر کمرشل بنیادوں پر شہر کے مختلف علاقوں میں فروخت کیا جاتا ہے ، ہر گھر سے ماہانہ 6 سے 7 ہزار روپیہ وصول کیے جاتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے ، کئی جگہوں پر ٹینکر مافیا کے افراد نے گھریلو بجلی کا کمرشل استعمال کر کے واٹر پمپ چلا رکھے ہیں ، جس وجہ سے حکومت کوالگ سے لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے ۔ یہ مافیا سرکاری جگہ کو نا صرف استعمال کر ہا ہے بلکہ نہروں/راجباہوں کے کناروں اور ملحقہ سڑکوں کو نکاسی آب کی وجہ ے نقصان پہنچا رہا ہے ، جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں، جس سے علاقہ مکینوں میں تشویش پائی جا رہی ہے ، یہ مافیا کراچی کی طرز پر ابھر رہا ہے ، میٹرو پولیٹن کارپوریشن سرگودھا کی ذمہ داری ہے کہ جن علاقوں میں میٹھا پانی نہ ہے ، وہاں تک واٹر سپلائی کا قیام کیا جائے مگر پانی مافیا اس ناجائز کاروبار کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں واٹر سپلائی کا قیام نہیں ہونے دے رہا اور نہ ہی پہلے سے موجود واٹر سپلائی سسٹم کی بدحالی میں بھی مافیا کا ہاتھ ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں