غیر قانونی ادویات کی فروخت پر تشویش، کمیٹیاں غیر فعال
سابق حکومت نے زائد المیعاد ادویات فروخت کی، روک تھام کیلئے کمیٹیاں بنانیکی ہدایت عملدرآ مد نہ ہو سکا، مانیٹرنگ کے نظام کو مزید سخت کیا جائے :شہری
سرگودھا (سٹاف رپورٹر )بلامقابلہ اور زائد المیعاد ادویات کی فروخت کی روک تھام کے لیے بنائی گئی کمیٹیوں کی غیر فعالیت کے باعث سرگودھا ادویات کے غیر قانونی کاروبار کا مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق سابق حکومت نے بلامقابلہ اور زائد المیعاد ادویات کی فروخت کی روک تھام کے لیے تحصیل سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایات جاری کی تھیں، تاہم ان پر تاحال مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا اور یہ نظام زیادہ تر کاغذی کارروائی تک محدود رہ گیا ہے ۔ہیلتھ اتھارٹی کی مبینہ کمزور گرفت اور ڈرگ انسپکٹرز کی مبینہ ملی بھگت کے باعث نہ صرف عام میڈیکل سٹورز بلکہ بعض بااثر عناصر بھی اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔
اسی طرح اتائیت کے ذریعے انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف کارروائی بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکی۔موسمی بیماریوں میں اضافے کے باعث ہسپتالوں اور کلینکس میں بڑھتے رش کے دوران بعض عناصر کی جانب سے صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھائے جانے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید سخت کیا جائے اور غیر قانونی ادویات کے کاروبار کے خاتمے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے ۔