نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 42 ہزار 290 ہے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 59 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 21 ہزار 689 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 8 لاکھ 77 ہزار 191 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 36 ہزار 368 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 38 لاکھ 18 ہزار 36 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 2661 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 3 لاکھ 43 ہزار 926،سندھ میں 3 لاکھ 27 ہزار 604 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 35 ہزار 877،بلوچستان میں 26 ہزار 201 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد 82 ہزار 99،گلگت بلتستان میں 5 ہزار 707 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 19 ہزار 756 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.41 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1239 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 9 لاکھ 41 ہزار 170 ہوگئی
Coronavirus Updates

امریکا کا ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا عندیہ

امریکا کا ایران پر عائد  پابندیاں اٹھانے کا عندیہ

دنیا اخبار

امریکا نے نیوکلیئر ڈیل کی پاسداری کیلئے ایران پر عائد متعدد پابندیاں اٹھانے کا عندیہ دے دیا

واشنگٹن (رائٹرز)ترجمان امریکی دفتر خارجہ کے مطابق نیوکلیئر ڈیل کی پاسداری کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے کیلئے ہم تیار ہیں، ایران پر عائد ایسی پابندیاں بھی اٹھالی جائیں گی جن کا نیوکلیئر ڈیل کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔قبل ازیں دیرینہ حریف امریکا اور ایران کا کہنا ہے کہ کسی فوری کامیابی کی توقع نہیں ہے تاہم دونوں حکومتوں اور یورپی یونین نے ابتدائی بات چیت کو مثبت قرار دیا۔ ایران اور عالمی طاقتوں نے ویانا میں منگل کو ہونے والے مذاکرات کے ابتدائی دور کو تعمیری قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ تہران پر عائد امریکی پابندیوں پر بات چیت کے لیے ورکنگ گروپ قائم کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں تاکہ تہران پر عائد پابندیوں کو ختم اور 2015 کا جوہری معاہدہ بحال کیا جا سکے ۔ ویانا میں یورپی یونین کی صدارت میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں ایران، چین، جرمنی، فرانس، روس اور برطانیہ کے نمائندے موجود تھے ۔ امریکا شامل نہیں تھا البتہ امریکی وفد ویانا میں موجود تھا اور یورپی یونین کے مذاکرات کار انہیں میٹنگ کی تفصیلات سے مسلسل آگاہ کرتے رہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement