گرین لینڈ :امریکا کا ہر باشندے کو 1لاکھ ڈالر دینے پر غور
ڈنمارک کے علاقے گرین لینڈ کی آبادی 57ہزار ،امریکا ساتھ ملانا چاہتا ادائیگیاں آزادی کے حق میں ووٹ یا سی او ایف اے معاہدے کیلئے کی جاسکتیں معاہدے مائکرونیشیا، مارشل جزائر اور پالاؤ جیسے ممالک سے ہوچکے امریکی فوج بنیادی خدمات کے بدلے سی او ایف اے ممالک میں کام کر سکتی ادائیگیوں کا طریقہ کار باشندوں کیلئے تجا رتی اور توہین آمیز محسوس ہو سکتا:ماہرین
واشنگٹن (رائٹرز )امریکی حکام نے گرین لینڈ کے باشندوں کو یکمشت ادائیگیاں بھیجنے پر غور کیا ہے تاکہ انہیں ڈنمارک سے الگ ہونے اور ممکنہ طور پر امریکا میں شامل ہونے پر راضی کیا جا سکے ۔ معاملے سے واقف چار ذرائع نے بتایا کہ کسی ممکنہ ادائیگی کی ٹھیک رقم اور طریقۂ کار ابھی واضح نہیں ہے ، امریکی حکام بشمول وائٹ ہاؤس کے معاونین نے فی کس تقریباً 10 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک کی رقم پر بات چیت کی ہے ۔گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک بیرون ملک علاقہ ہے اور اسکی آبادی 57 ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔یہ حکمت عملی وائٹ ہاؤس کی ان متنوع تجاویز میں شامل ہے جن میں جزیرے پر اثر بڑھانے کے لیے امریکی فوج کے استعمال کا امکان بھی زیرِ غور ہے ۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار جزیرے کے باشندوں کے لیے تجارتی اور توہین آمیز محسوس ہو سکتا ہے کیونکہ گرین لینڈ کی مقامی آبادی اپنی آزادی اور ڈنمارک پر اقتصادی انحصار پر طویل عرصے سے بحث کرتی رہی ہے ۔گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈریک نیلسن نے اتوار کو فیس بک پر لکھا:"بس بہت ہو گیا… انضمام کے خواب دیکھنا بند کریں۔"یہ بیان اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ کہا کہ ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے ہے اور ڈنمارک اس کا انتظام نہیں کر پائے گا۔ یہ بہت سٹرٹیجک ہے ۔
"وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ یکمشت ادائیگیوں پر بات چیت نئی نہیں تھی، لیکن حالیہ دنوں میں یہ معاملات مزید سنجیدہ ہو گئے ۔ وہیں وائٹ ہاؤس کے معاونین زیادہ بڑی ادائیگیوں پر بھی غور کر رہے ہیں جس میں فی کس ایک لاکھ کی ادائیگی ممکنہ طور پر شامل ہے یہ رقم 5 ارب 70 کروڑ ڈالر بنتی ہے ۔ ممکنہ ادائیگیوں کی کئی تفصیلات ابھی واضح نہیں جیسے کہ یہ ادائیگیاں کس وقت اور کس طرح کی جائیں گی، اگر ٹرمپ انتظامیہ اس راستے پر گئی یا گرین لینڈ کے باشندوں سے اس کے بدلے میں بالکل کیا توقع کی جائے گی۔ ٹرمپ کے معاونین کے زیرِ غور امکانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ گرین لینڈ کے ساتھ "کمپیکٹ آف فری ایسوسی ایشن" (سی او ایف اے ) جیسا معاہدہ کیا جائے جس کی وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے منگل کو نشاندہی کی۔سی او ایف اے معاہدے کی عین تفصیلات ہر دستخط کنندہ ملک کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ تاہم عام طور پر امریکا ان ممالک کو بہت سی بنیادی خدمات فراہم کرتا ہے جیسے ڈاک کی ترسیل اور فوجی تحفظ۔ بدلے میں امریکی فوج سی او ایف اے ممالک میں آزادانہ طور پر کام کر سکتی ہے اور امریکا کے ساتھ تجارتی لین دین زیادہ تر بغیر کسٹم ڈیوٹی کے ہوتا ہے ۔اب تک یہ معاہدے چھوٹے جزیرہ نما ممالک جیسے مائکرونیشیا، مارشل جزائر اور پالاؤ کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے لیے گرین لینڈ کو ممکنہ طور پر ڈنمارک سے الگ ہونا پڑے گا۔ بظاہر ادائیگیاں گرین لینڈ کے باشندوں کو آزادی کے حق میں ووٹ دینے یا سی او ایف اے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔