"RBC" (space) message & send to 7575

صاحب دین

ہم زمینی مخلوق کو نیچے سے اوپر کی طرف محنت‘ عزم‘ حوصلے اور صبر سے بڑھنے والے صرف پسند نہیں‘ ان کیلئے دل میں ایک خاص جگہ ہے۔ باوسائل خاندانوں کیلئے زمین پہلے ہی ہموار ہوتی ہے‘ گھر کا ماحول‘ بزرگوں کی معاشرے میں اعلیٰ حیثیت اور اقتصادی ذرائع گزشتہ نسلوں کی تعلیم‘ہنر مندی اور کاروبار انہیں اعلیٰ اداروں میں بچپن میں ہی مخصوص جگہ فراہم کرتے ہیں ۔ وہ ان سے استفادہ نہ کر سکیں اور اپنے لیے کوئی نیاراستہ نہ بنا سکیں تو اور بات ہے‘ مگر جہاں تک مادی وسائل اور بہتر سماجی ماحول کا تعلق ہے‘ وہ انہیں میسر ہوتے ہیں ۔ ہمارے طبقے اور نسل کی اکثریت کا تعلق ان گھروں سے ہے جہاں پہلے کسی نے سکول‘ کتاب‘ حروف سے آگاہی اور جدید تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ وہ مشکل دور تھا‘ ملک نیا نیا آزاد ہو اتھا‘ مگر ہر طرف ایک ہی جذبہ موجود تھا کہ ہم نے کچھ بن کر دکھانا ہے۔ اوائل کے برسوں میں سرکاری تعلیم لازمی تھی‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہماری اکثریت باپ دادا کی پرانی روش پر چلتی‘ ان کے کاروبار‘ زراعت یا جن پیشوں سے وابستہ تھے‘ ہم بھی وہی کرتے۔ آج بھی میرا خیال ہے کہ تعلیم کو لازمی قرار دے کر ضلعی انتظامیہ‘ جو اَب ہر یونین کونسل کی سطح پر پھیلی ہوئی ہے‘ والدین کوپابند کرے اور کرسکتی ہے کہ وہ اپنے سولہ سال تک کے بچوں کو سکولوں میں داخل کرائیں۔ مغربی دنیا میں یہ قانون موجود ہے جہاں لوگ اپنے شعور کی بدولت اور جدید صنعتی معیشت کے تقاضوں کے تحت اپنے لیے تعلیم لازمی سمجھتے ہیں ۔ بات اپنی نہیں‘ اپنے تمام دوستوں کی کرنا چاہتا ہوں۔ زندگی میں سکول‘ کالج اور پھر جامعات کی دنیا اور پیشے میں سینکڑوں دوست بنے‘ اور اکثریت کے ساتھ آج بھی رشتہ قائم ہے۔ وہ جن میں مشکل ترین حالات میں محدود وسائل کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ کارفرما تھا‘ اور انہوں نے مخصوص پیشوں میں واضح مقاصد کے ساتھ سمت مقرر کی‘اور جہدِ مسلسل سے خائف نہ ہوئے‘ وہ میرے لیے باعث تحریک اور روشنی کا مینار تھے۔ صاحب دین ان سب میں ایک باکمال‘ باہمت اور روشن خیال اور جدید سوچ رکھنے والے شخص تھے۔
صاحب دین میرے کلاس فیلو تھے نہ ہم پیشہ۔ ان سے ملاقات جامعہ پنجاب میں انتہائی قریبی دوست کے توسط سے ہوئی‘ جو اَب بھی ہمارے دل میں رہتا ہے۔ ہم جامعہ پنجاب میں دورِ طالب علمی اور بعد میں معلمی میں دوست تھے‘ بس یوں سمجھیں کہ کئی سال بہت قریب گزارے اور اب بھی وہ محبتیں قائم و دائم ہیں ۔ صاحب دین ان کے عزیز تھے‘ اور تازہ تازہ ہوائی فوج میں ایئرمین بھرتی ہوئے تھے۔ لمبے وقفوں بعد لاہور آتے تو ہمارے دوست پروفیسر فتح نصیب چودھری کے ساتھ نشستیں ہوتیں ۔ دراز قامت‘ صحت مند‘ کھلے دل اور کھلے دماغ کے صاحب دین کبھی کبھار سوچ میں پڑ جاتے کہ انہیں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کاموقع نہ مل سکا۔ ہم انہیں تسلی دیتے کہ کوئی بات نہیں ‘ آپ کے پاس اچھی نوکری ہے‘ آپ وہاں ترقی کرکے ایک دن ایئرمارشل بن جائیں گے تو وہ ہنس دیتے۔ وہ علمی گفتگو کرتے اور کتابیں ‘شاید وہ ہماری نسبت اس جوانی کے زمانے میں زیادہ پڑھتے تھے۔ ہمیں بھی کہتے کہ فلاں کتاب ضرور اپنے مطالعہ میں لے آئو۔ دوسروں میں کوئی خوبی ہنر اور صلاحیت انہیں پسند آتی تو وہ اپنے آپ کو اسی اچھے قالب میں ڈھالنے کی کوشش میں رہتے۔ ایئرمین کی حیثیت میں کام کرتے کرتے انہوں نے اپنی صلاحیت سے کمیشن لے لیا۔ 1981ء میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں وطن واپس آیاتو افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کی جنگ‘اور اس کے خلاف مزاحمت کے بارے میں تحقیق کیلئے کئی بار پشاور جانا ہوا۔ پہلی یاد وسری بار معلوم ہوا کہ صاحب دین بھی وہیں تعینات ہیں ۔ ٹھہرا تو میں کسی ہوٹل میں تھا اور ان سے ملاقاتیں وہاں رہیں اور اب یاد نہیں کہ کتنی بار اُن کے پُر تکلف دستر خوان سے لطف اندوز ہوا۔
ہمارے پیشے مختلف تھے‘ اور ہماری جگہیں مسلسل تبدیل ہونے کی وجہ سے رابطے کا ذریعہ اس زمانے میں فتح نصیب ہی تھے۔ کئی بار اپنی پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر مجھے امریکہ کی جامعات میں رہنا پڑا‘ بلکہ مجموعی طور پر دس سال سے کچھ زیادہ عرصہ ان میں گزر گیا۔ فتح نصیب بھی تب اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ آ چکے تھے۔ ان دنوں میں کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں قائداعظم پروفیسر تھا‘ اور اس شام ہماری پاکستان کانفرنس کا ڈنر تھا‘ جس کا اہتمام میں نے کیاہوا تھا۔اس گہما گہمی میں کسی نے اطلاع دی کہ میرے دفتر کے باہر کوئی صاحب میرا انتظارکر رہے ہیں ۔بھاگ کر گیا تو صاحب دین سخت سردی میں موٹے اوورکوٹ میں ملبوس تھے۔ حیرت کی انتہا نہ رہی۔ فوراً انہیں اپنے ساتھ لے گیاجہاں ہمارے ملک کے نامور سفارت کار محترم یوسف بُچ صاحب نے ڈنر تقریر کرنا تھی۔
اگلے دن ہم نے دوبارہ ملاقات کا وقت مقرر کیا کہ ہم دونوں نے مختلف سمتوں میں رات کو سفر کرنا تھا۔ حیرت تو اس بات کی تھی کہ صاحب دین امریکہ کیوں ‘ کیسے اور کس لیے آئے تھے ؟ تب وہ سکوارڈن لیڈر کے عہدے پر ترقی کرگئے تھے‘ مگر وہ خوش نہیں تھے اور ایک جذبہ ان کے اندر تھاکہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے اور خوش حالی کیلئے نئی دنیا کا سفر ان کیلئے ناگزیر ہے۔ معلوم ہوا کہ وہاں آنے سے پہلے انہوں نے کوئی کاروبار شروع کیا تھااور اس سلسلے میں وہ امریکہ کسی کمپنی سے مشینیں درآمد کرنے آئے تھے۔ کچھ اور ملاقاتیں اگلے چند دنوں میں ہوئیں تو دل کی بات کھول کر بیان کردی کہ اب واپس نہیں جانا‘یہیں کوئی کام کرنا ہے۔ یہ بات آج سے بتیس سال پہلے کی ہے۔ لاکھ سمجھایا کہ یہاں زندگی کتنی مشکل ہے‘ اور وہ کس بنیاد پر یہاںرہ سکیں گے‘ جب ان کے پاس مستقل رہائش کیلئے ویزہ بھی نہیں ہے۔ وہ مجھے بہت ہی پُرعزم نظر آئے‘ اور میرے خدشات کے باوجودزیادہ پُر امید وہ اپنے بچوں اور خاندان کی آسودگی کیلئے تھے۔
اب کیا بتائیں کہ سابق سکواڈرن لیڈر نے کون سا کام تھا جو اپنی معاشی بقا کیلئے نہ کیا ہو۔ اتنامعلوم ہے کہ وہ کسی وکیل کے دفتر میں ملازم رہے اور اسی کی وساطت سے امیگریشن بھی لے لی۔ میں اسی سال واپس آگیا اور صاحب دین نے وہاں بیس سال لگا دیے۔ بہت عرصہ بعد ایک مرتبہ لاہور میں ملاقات ہو گئی تو صاحب دین کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا جومیری جامعہ‘ لمز میں زیر تعلیم تھا۔ دونوں بیٹیاں میڈیکل کالج میں تھیں ‘ یا ان کی تعلیم مکمل ہو چکی تھی‘ا ورکہیں اپنے بچوں کیلئے ایک عمدہ مکان بھی بنوالیا تھا۔ صاحب دین نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ ملک سے باہر گزارا اور مقصد یہ تھا کہ ان کے بچے اور خاندان آسودہ ہوں اور وہ اعلیٰ تعلیم معیاری درسگاہوں میں حاصل کریں۔ ان کا وہ بیٹا جو یہاں زیر تعلیم تھا‘ آج ملک کی سول سروس میں اعلیٰ عہدے پرہے‘ اور دونوں بیٹیاں ڈاکٹر بن کر امریکہ میں ملازمت کررہی ہیں ۔ کہاکہ صاحب دین‘ آپ نے بہت عرصہ باہر گزار دیا۔کہا: دیکھو‘ میرے حالات مختلف تھے‘ میرے لیے ضروری تھا‘و رنہ کیسے میرے بچوں پر معیاری تعلیم کے دروازے کھل سکتے تھے۔ قربانی دینا پڑی۔ صاحب دین نے کچھ قانون کی تعلیم بھی حاصل کی جو وکیل کے معاون کی حیثیت سے کام کرنے کیلئے ضروری تھی‘ اور کئی اور نوکریاں بھی۔ اس دوران بچوں کی تعلیم کا مقصد ان کے اندر ایک جذبے اور تحریک کے طور پر کام کرتا رہا۔ بہت عرصہ رابطہ نہ رہا‘ لیکن ان کی شکل اور زندگی کا عکس اپنے مشکل لمحات میں میری زندگی کے آئینے میں نمایاں ہوکرسامنے آتا رہا۔ ایسے میں صاحب دین کی مثال کو دیکھتا ہوں۔ دوہفتے قبل پروفیسر فتح نصیب کو فون کیاکہ صاحب دین کا بتائو کہ وہ کہاں ہیں ۔ سن کر دکھ ہوا کہ وہ اپنے اصل وطن سدھار چکے ہیں ۔ نہ جانے کتنے لوگوں کی یہاں اپنے ملک میں اور امریکہ میں مدد کرتے رہے۔ خداحافظ اے دوست۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں