"SBA" (space) message & send to 7575

ملاقات کے قیدی

حضرت عیسیٰؑ ابن مریم کی پیدائش سے 375 سال پہلے کوٹلیہ چانکیہ پوٹھوہار کے ایک گاؤں کوٹلی میں پیدا ہوا۔ یہ گاؤں تحصیل کہوٹہ کا حصہ تھا لیکن اب کوٹلی ستیاں کے نام سے ایک علیحدہ تحصیل بنا کر نئے مری ڈسٹرکٹ میں شامل کر دی گئی ہے۔ چانکیہ گورننس اور سیاست کے قدیم ترین گروئوں میں شمار ہوتا ہے۔ ٹیکسلا یونیورسٹی میں پہلے تعلیم اور پھر تدریس کے ذریعے نام بنانا چانکیہ کے اعزاز ہیں۔ اس کی کتاب ارتھ شاستر اب دہلی سے اردو ترجمہ کے ساتھ بھی دستیاب ہے۔ ارتھ شاستر کی خاص بات یہ ہے یہ کتاب قدیم فنِ حکمرانی پر جدید اتھارٹی سمجھی جاتی ہے۔ چانکیہ کے دو اقوال ہمارے آج کے طرزِ حکمرانی اور فیصلہ سازی پر صادق و صادر نظر آتے ہیں۔
کوٹلیہ چانکیہ کا پہلا گُر: بادشاہ کے کان ہر کس و ناقص کی دسترس میں نہیں ہونے چاہئیں۔ چانکیہ کا یہ پہلا گُر سہ جہتی ہے۔ اس کا پہلا مطلب یہ ہوا کہ بادشاہ کو احتیاط اور اہتمام سے اپنے مشیروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اس گُر کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ مشیر انتہائی بہترین قابلیت کے اوصاف رکھتے ہوں۔ ایک پہیہ اکیلا رتھ نہیں چلا سکتا کیونکہ مشیروں نے بادشاہ یا حکمران کی رہنمائی کا مشکل ترین فریضہ سرانجام دینا ہوتا ہے‘ جس کے ذریعے سے حکمران ہر قسم کے اچھے برے حالات میں متوازن فیصلے کرنے کے قابل بنتا ہے۔ جن میں غصہ‘ عناد اور اَنا کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ دنیا کی ہر ریاست میں ہر آدمی قانون کی نظر میں برابر ہے۔ اس گُر کا تیسرا مطلب یہ ہے کہ کانا پھوسی‘ کاسہ لیسی‘ خوشامد پرستی اور بھانڈ بازی والے خود نما و خود پرست لوگوں کو مشاورت کے عمل میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔
حکمران کے کان تک رسائی کے دو معنی اور بھی ہیں۔ ایک تو رعایا میں سے ہر کسی کو بادشا ہ کے کانوں تک بات پہنچانے کی سہولت نہیں میسر ہوتی۔ اس لیے جن افراد کو قوم کی رائے حکمران تک پہنچنانے کا فریضہ سونپا جائے وہ ہر قسم کے تعصب سے پاک اور شخصی مفادات سے بالاتر ہونے چاہئیں۔ دوسرے معنوں میں افواہ‘ گمان‘ قیاس‘ اندازہ‘ خواہش‘ حسد اور چغلی جیسی خامیوں سے پاک صاف لوگ ہی حکمران کے حلقۂ مشاورت میں ہونے چاہئیں۔
آئیے اب اس گُر کو پاکستان کے معروضی حالات کے تناظر میں پرکھتے ہیں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ آج کے طرزِ حکمرانی میں تین بیماریوں کا قومی سطح پر کھلا عمل دخل ہے۔ ان میں سے پہلا ہے پیسہ یعنی روپیہ یا نقدی‘ جو ہر ناجائز کام کو جائز قرار دیتا ہے۔ پنجاب کی چیف منسٹر نے اس بیماری کا اعتراف گزشتہ دنوں پبلک کی گئی تازہ وڈیو میں ان تین جملوں میں کیا۔ پہلے جملے میں کہا: مجھ سے پہلے وزیراعلیٰ ہاؤس ویلنگ ڈیلنگ کا اڈا بنا ہوا تھا۔ دوسرا جملہ تھا کہ یہاں فائل آگے بڑھانے کے لیے بھی باقاعدہ رشوت کے پیسے لیے جاتے تھے۔ تیسرا جملہ پچھلے دو سے بھی اگلے لیول کا ہے۔ ''اس جگہ لوگوں نے اپنے ذاتی کاروبار کو آگے بڑھانے کیلئے باقاعدہ منظم سسٹم بنایا ہوا تھا‘‘۔
دنیا ساری کے نظامِ حکومت میں ایک لفظ بڑی متبرک حیثیت رکھتا ہے جسے کہتے ہیں میرٹوکریسی (Meritocracy)۔ یعنی ہر فیصلہ بغیر کسی دباؤ کے صادر ہو‘ جبکہ ہر تعیناتی بغیر کسی سفارش یا مالی منفعت کے کی جائے۔ پاکستان میں جتنے عہدوں کے لیے 1973ء کے دستور کے نیچے حلف لیا جاتا ہے‘ اس میں میرٹوکریسی کو درج ذیل الفاظ میں شامل کیا گیا؛ I will work without fear and favour and do justice to every person in equal manner.
کوٹلیہ چانکیہ کا دوسرا گُر: چانکیہ کا دوسرا گُر قوم سازی یا فیصلہ سازی میں جلد بازی اور گھبراہٹ‘ دونوں صورتوں میں صحیح سوچ اپنانے کے لیے تین گُر وضع کرتا ہے۔ چانکیہ نے اپنی کتاب ارتھ شاستر میں لکھا کہ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے اپنے آپ سے تین سوال ضرور پوچھ لیں۔ پہلاسوال: میں یہ کام کیوں کر رہا ہوں؟ دوسرا سوال: اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ تیسرا سوال: کیا میں کامیاب ہو جاؤں گا؟
پاکستان کے معروضی حالات میں حکومتی فیصلہ ساز یا ان کے مشیر ان تینوں صلاحیتوں سے یکسر عاری لگتے ہیں۔ اسی لیے سرکار اور دربار دونوں کے بیانیے کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے ٹوٹتی اور پھوٹتی ہے۔ بار بار‘ ہر بار۔ اب تو زمانے گزر گئے بلکہ پون صدی بھی لَد گئی۔ لیکن شاباش دینا پڑتی ہے بیانیہ گروں اور بیانیہ سازوں کو‘ جو ایک ہی بِیٹ پر 78 سال سے بے وزن‘ بے ڈھنگا ڈھول بجانے میں مشغول ہیں۔ اس ساز بے انداز کی ابتدا جنرل اسکندر مرزا کے مارشل لاء سے ہوئی تھی۔ سرکاری بابوؤں نے الزام یہ لگایا کہ حکومت کی پالیسیاں ملک دشمن ہونے کی وجہ سے اسمبلی توڑی گئی اور حکومت کو ڈِسمس کیا گیا۔ اسی دور میں قوم کے اندر غدار پیدا کرنے کی فیکٹری لگائی گئی‘ مگر تماشا یہ ہوا کہ کچھ غدار ناک رگڑ کر مارشل لاء کے ساتھ کھڑے ہو گئے‘ جو اچھے غدار ٹھہرے۔ جن کو رام کرنے میں نظام بری طرح ناکام ہوا‘ ان کے ماتھے پر برے اور غدار کا سٹیکر لگا دیا گیا۔ غداروں کی یہی تقسیم ہمارے پہلے دستور کو منسوخ کرنے کا باعث بنی تھی۔
ان دنوں ایک بار پھر غداری کے تین مظاہر سامنے آئے۔ پہلا‘ ایک بچے کا کالم جس پر درباری دانش فروش لکھ لکھ کر ہلکان ہو گئے۔ ینگ سٹوڈنٹ نے صرف اتنا کہا تھا: پاکستان کے اداروں کا سٹرکچر انتہائی کمزور ہے ۔ یہ ایک ایسا پبلک فیکٹ ہے جس سے کوئی مُفر ممکن نہیں۔ دوسرا یہ لکھا کہ فیصلہ سازی میں جنریشن زی کو شریک کیا جائے۔ یہ دونوں باتیں سو فیصد بجا ہیں۔ زورین نظامانی کے فنکار والدین کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ جن عاقبت نا اندیشوں کو سندھ کے بارے میں کَکھ پتا نہیں ان کے لیے بتاتے چلیں کہ نظامانی اور قاضی سندھ کے دو بڑے معروف خاندان ہیں‘ جن کا سندھ کی سیاست میں ہمیشہ سے عمل دخل چلا آتا ہے۔ جہاں تک جنریشن زی کا تعلق ہے‘ جنہیں نہیں معلوم وہ تصدیق کر لیں کہ ان دنوں ہر روز اٹھارہ ہزار نئے ووٹر اپنے آپ کو رجسٹر کروا رہے ہیں۔ اس طرح سے آنے والے جنرل الیکشن میں جنریشن زی کے اڑھائی کروڑ نمائندے فیصلہ سازی میں اپنا حصہ مانگیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کے آنے والے اقتدار کا فیصلہ پچھلے ووٹرز اور آنے والے ووٹرز ملا کر جنریشن زی کے باشعور‘ باہمت اور ذمہ دار نوجوانوں کے اکثریتی ووٹ کا محتاج ہو گا۔
دوسری جانب دیکھیے‘ ہر روز اور ہر منگل وار ریاست عمران خان سے ملاقات کرانے نہ کروانے کے سوال کے کٹہرے میں کھڑی ہوتی ہے۔ عمران خان بڑے وقار‘ پوری حوصلہ مندی اور جرأت کے ساتھ اڈیالہ جیل کے سیل میں اللہ اللہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب پورا نظام ایک شخص کی ملاقات‘ ایک شخص کے بیانیے اور ایک شخص کے خوف کا قیدی بنا ہوا ہے۔ یہ ناقابلِ تردید حقیقت زبان زدِ عام ہے۔
تم سے تو ایک دل کی کلی بھی نہ کھل سکی
یہ بھی بلا کشانِ محبت کے کام ہیں
دل سے گزر خدا کے لیے اور ہوشیار
اس سرزمیں کے لوگ بہت بے لگام ہیں
وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکا
اور جس پہ اتّفاق سے آنسو حرام ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں