ایرانی صدر نے امریکا سے مذاکرات کی منظوری دیدی

 ایرانی صدر نے امریکا سے مذاکرات کی منظوری دیدی

ایران میں مظاہروں میں ہلاک 2985 افراد کے نام اخبارات میں شائع

پیرس،لندن،تہران (اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا سے جوہری مذاکرات کی منظوری دیدی ۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا  کہ مذاکرات کے طریقہ کار اور فریم ورک پر کام جاری ہے ، چند روز میں حتمی شکل دی جائے گی۔ ایران نے کہا وہ کسی قسم کے الٹی میٹم کو قبول نہیں کرتا۔ صدر مسعود پزیشکیان کے دفتر کی جانب سے گزشتہ ماہ مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے 2985 افراد کے نام اور شناخت شائع کردی گئی ۔مارے جانے والے افراد کے ناموں کی فہرست ملک کے مختلف اخباروں میں شائع کی گئی ۔ایوان صدر کا کہنا تھا 131 لاشوں کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی جس کے باعث ان کے نام فہرست میں شامل نہیں۔ایرانی حکام نے چار غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا ۔ ریاستی ٹی وی کے مطابق یہ افراد تہران میں چھاپے کے دوران پکڑے گئے ۔

ایک ملزم کے بیگ سے چار گھریلو ساخت کے سٹن گرینیڈ بھی برآمد ہوئے ،گرفتار شدگان کی شہریت اور مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ایران نے پیر کو یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے فیصلے کے بعد تہران میں موجود یورپی سفارتکاروں کو دفتر خارجہ طلب کیا ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ سب سے چھوٹا اقدام ہے ،مزید اقدامات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔سعودی عرب میں ایرانی سفیر علی رضا عنایتی نے کہا ہے کہ بعض قوتیں خطے کو آگ میں جھونکنا اور یہاں کی دولت ضائع کرنا چاہتی ہیں۔ یہ قوتیں خطے پر جنگ مسلط کرنا چاہتی ہیں۔روس نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر محفوظ کرنے کی دوبارہ آمادگی ظاہر کر دی،کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا یہ معاملہ کافی عرصے سے ایجنڈے میں شامل ہے ۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی کا کہنا ہے کہ دشمن کی ایک غلطی سے کوئی بھی امریکی محفوظ نہیں رہے گا اور خطے کی آگ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو بھسم کردے گی۔برطانیہ نے ایران میں مظاہرین پر حالیہ بربریت کے الزام میں 10 افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان میں ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی، پولیس چیف اور دو پاسداران انقلاب کے افسر شامل ہیں۔ امریکی اور ایرانی حکام نے مئی 2023 سے تعطل کا شکار امریکا ایران جوہری مذاکرات جمعہ کو ترکیہ میں دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق کردی۔امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات استنبول میں ہو گی۔اس ملاقات میں سعودی عرب، یو اے ای، قطر، مصر اور دیگر ممالک بھی شریک ہوں گے ۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارت کاری جاری ہے ، ایران یورینئم افزودگی پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے ، بدلے میں ایران چاہتا ہے کہ امریکی فوجی اثاثوں کو ایران سے دور منتقل کیا جائے ۔ بال اب امریکی صدر ٹرمپ کے کورٹ میں ہے ۔یاد رہے امریکی صدر نے بھی دو روز قبل کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے ، پہلے بھی ایران سے بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں