رواں سال سونا مہنگا ،چاندی کا ملا جلا رجحان رہیگا :تجزیہ کار

رواں سال سونا مہنگا ،چاندی کا  ملا جلا رجحان رہیگا :تجزیہ کار

لندن (رائٹرز )ایک سروے کے مطابق 2026 میں سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سیاسی بے یقینی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔۔

برطانوی خبررساں ادارے کے سروے میں شامل ماہرین کے مطابق 2026 میں سونے کی اوسط قیمت تقریباً 4,747 ڈالر فی اونس تک جا سکتی ہے ، جو اب تک کی سب سے زیادہ پیش گوئی ہے ۔ اس سے پہلے اکتوبر میں ماہرین نے سونے کی قیمت 4,275 ڈالر فی اونس رہنے کا اندازہ لگایا تھا، یعنی اب توقعات مزید بڑھ گئی ہیں۔ڈوئچے بینک کے تجزیہ کاروں نے کہا،سونے کے بنیادی محرکات اب بھی مثبت ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے (اور قیمتی دھاتوں) میں سرمایہ کاری کی منطق میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق مرکزی بینک اپنے ذخائر میں مزید سونا شامل کرتے رہیں گے

، کیونکہ وہ تنوع بڑھانے اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، بلند قیمتوں کے باعث ایشیا کے اہم خطوں میں زیورات کی طلب میں مزید کمی آنے کا امکان ہے ۔تجزیہ کاروں نے چاندی کی قیمتوں کے تخمینے بھی بڑھا دئیے ہیں اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ 2026 میں چاندی کی اوسط قیمت 79.50 ڈالر فی اونس ہو گی، جب کہ اکتوبر کے سروے میں اس کا تخمینہ صرف 50 ڈالر فی اونس لگایا گیا تھا۔چاندی، جو ایک محفوظ سرمایہ اور صنعتی دھات دونوں ہے ، 2025 میں ریکارڈ 147 فیصد بڑھ گئی تھی اور اپنی تیز بڑھوتری کو جاری رکھتے ہوئے 29 جنوری کو 121.64 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح تک پہنچی، تاہم بعد ازاں قیمتیں گر کر 89.70 ڈالر فی اونس ہو گئیں۔چاندی کی حالیہ قیمتوں میں تیزی بنیادی طور پر چھوٹے سرمایہ کاروں اور شارٹ ٹرم خریداری کی وجہ سے آئی تھی، جس سے مارکیٹ میں چاندی کی کمی مزید محسوس ہوئی، لیکن اب یہ دباؤ کم ہو رہا ہے ۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چاندی کی قیمتیں اب بھی بہت اُتار چڑھاؤ والی رہیں گی اور قیمتیں اچانک گر بھی سکتی ہیں کیونکہ لوگ اس کی کم خریداری کر رہے ہیں۔صنعتی استعمال میں بھی کمی آ رہی ہے کیونکہ شمسی پینل بنانے والی کمپنیاں چاندی استعمال کم کر رہی ہیں، اور زیورات کی طلب بھی کمزورپڑ رہی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں