ایران پر حملے ،اے آئی کے وسیع استعمال پر نئے سوالات،خدشات
مصنوعی ذہانت سے جنگی مشینری پر انسانی کنٹرول کمزور ہو سکتا ہے :ماہرین امکان یہی ہے کہ ایران میں اہداف کی نشاندہی کیلئے اے آئی کا استعمال کیا گیا خودکار عمل تیزی سے اہداف کی فہرستیں تیار کر سکتا،جو انسانوں کیلئے ناممکن
جنیوا (اے ایف پی)ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر حملوں میں اہداف کے انتخاب اور کارروائیوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے ممکنہ وسیع استعمالنے کئی نئے سوالات اور خدشات کو جنم دیا ہے ، خصوصاً یہ کہ کہیں جنگی مشینری پر انسانی کنٹرول کمزور تو نہیں پڑتا جا رہا۔امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی کارروائی شروع کرنے کے بعد سے ملک بھر میں ہزاروں حملے کئے ہیں ،مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ماہر پیٹر اسارو نے اے ایف پی کو بتایا کہ بظاہر امکان یہی ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں اہداف کی نشاندہی کے لیے اے آئی کا استعمال کیا، کیونکہ حملوں کی منصوبہ بندی کا وقت بہت کم نظر آتا ہے جبکہ نشانہ بنائے گئے اہداف کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ان کے مطابق اگرچہ اے آئی فیصلوں اور کارروائیوں کی رفتار بڑھا سکتی ہے ، لیکن اس کے ساتھ کئی اخلاقی اور قانونی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔نیویارک کے تعلیمی ادارے دی نیو سکول میں میڈیا سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سٹاپ کلر روبوٹس مہم کے نائب چیئرمین پیٹر اسارو نے کہا اس عمل کو خودکار بنا کر آپ بہت تیزی سے اہداف کی طویل فہرستیں تیار کر سکتے ہیں، جو انسانوں کے لئے اتنی تیزی سے ممکن نہیں۔