گلوکار سے سیاستدان :بالندر شاہ نیپال کے نئے وزیراعظم

 گلوکار سے سیاستدان :بالندر شاہ نیپال کے نئے وزیراعظم

ریپ موسیقی کے ذریعے عوامی توجہ کا مرکز بنے ، میئر بن کر لوگوں کے دل جیتے ان کا ایک گانا یوٹیوب پر ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے موجودہ ریاستی نظام میں وہ ایسے ختم ہو جائیں گے جیسے دیمک لگنے سے لکڑی :مبصرین

کٹھمنڈو (رائٹرز )نیپال میں وہ ریپر جس نے 2022 میں دارالحکومت کٹھمنڈو کا میئر منتخب ہو کر عملی سیاست میں قدم رکھا تھا، اب گزشتہ ستمبر کی عوامی تحریک کے بعد پہلے انتخابات کے نتیجے میں نیپال کا اگلا وزیرِ اعظم بننے کے قریب ہے ۔بالندر شاہ کی جماعت راستریہ سوتنترا پارٹی تقریباً 100 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے اور یوں اپنے بڑے حریفوں سے کافی آگے ہے ۔ حتمی نتائج چند دنوں میں متوقع ہیں۔ یہ نتائج 165 ایسی نشستوں پر مشتمل ہوں گے جن کا فیصلہ براہِ راست ووٹ سے ہوتا  ہے ، جبکہ 110 نشستیں متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت دی جاتی ہیں۔اس وقت دوسرے نمبر پر موجود جماعت نیپالی کانگریس پہلے ہی شکست تسلیم کر چکی ہے ، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راستریہ سوتنترا پارٹی کی نمایاں برتری اس بات کا امکان ظاہر کرتی ہے کہ اگلی حکومت بھی یہی جماعت تشکیل دے گی۔"بالندر شاہ اس قدر مقبول ہو چکے ہیں کہ اب کٹھمنڈو آنے والی بسوں پر بھی ایسے سٹیکر لگے ہوتے ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے :‘بالین کے شہر کی طرف روانہ’ ، اگر بالندر شاہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ایک ایسے شخص کے لیے غیر معمولی عروج ہوگا جو ابتدا میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے والی ریپ موسیقی کے ذریعے عوامی توجہ کا مرکز بنا اور پھر اپنی مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ سیاسی منصب تک پہنچ گیا۔یہ صورتِ حال نیپال کی سیاست کو بھی بدل سکتی ہے ۔

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع یہ چھوٹا سا ملک چین اور بھارت کے درمیان واقع ہے اور یہاں کی سیاست طویل عرصے سے چند روایتی سیاسی جماعتوں کے زیرِ اثر رہی ہے ۔بالندر شاہ کی ملک گیر مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا کام بھی ہے جو انہوں نے کٹھمنڈو کے میئر کی حیثیت سے کیا۔ اس دوران انہوں نے شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دی، مثلاً کچرے کے انتظام کے نظام کو بہتر بنایا اور صحت کی سہولیات سمیت دیگر عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنی بھرپور موجودگی کے ذریعے نوجوانوں سے براہِ راست رابطہ رکھتے ہیں۔ فیس بک جیسے ذرائع پر ان کے پینتیس لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔انہیں کم عمری ہی سے شاعری کا شوق تھا جو بعد میں ریپ موسیقی سے محبت میں بدل گیا۔ ان کے ایک معاون کے مطابق وہ امریکی گلوکاروں Tupac Shakur اور 50 Cent سے متاثر تھے ۔نیپال میں سول انجینئرنگ میں جامعہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شاہ جنوبی بھارت گئے جہاں انہوں نے اسٹرکچرل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کی۔ اس وقت تک وہ اپنے ملک میں ریپ موسیقی کے ایک نمایاں گلوکار کے طور پر پہچانے جانے لگے تھے ۔ان کے گانے اکثر نیپال کے حکمران طبقے پر تنقید کرتے تھے ، جو ایسے ملک میں بہت سے لوگوں کے دل کی آواز بن گئے جہاں تقریباً تین کروڑ آبادی میں سے لگ بھگ بیس فیصد لوگ شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں