جنگ: مالی مشکلات کا شکار کئی ممالک خطرے میں پڑ سکتے:عالمی مالیاتی ادارہ

جنگ: مالی مشکلات کا شکار کئی ممالک خطرے میں پڑ سکتے:عالمی مالیاتی ادارہ

زیادہ تر خلیجی ممالک مالی ذخائر کی بدولت کچھ عرصے تک بحران کا سامنا کرسکتے ،کم ریٹنگ رکھنے والا بحرین واحد استثنیٰ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکاکی معیشتیں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مزید متاثر ہو سکتی ہیں، ایس اینڈ پی گلوبل

لندن (رائٹرز)مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد  وہ فوری طور پر خودمختار (سورن) کریڈٹ ریٹنگز میں کوئی جذباتی یا جلد بازی میں کمی نہیں کرے گا، تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے پہلے سے مالی مشکلات کا شکار کئی ممالک خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ادارے کے اعلیٰ تجزیہ کاروں نے جمعرات کو ایک ویبینار میں کہا کہ یہ تنازع اب کم خطرے والے منظرنامے سے بڑھ کر درمیانے درجے کے خطرے والے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے ۔

تاہم زیادہ تر خلیجی ممالک کے پاس اتنے مالی ذخائر موجود ہیں کہ وہ کچھ عرصے تک اس بحران کا سامنا کر سکتے ہیں جبکہ کم کریڈٹ ریٹنگ رکھنے والا بحرین اس معاملے میں واحد واضح استثنیٰ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بحران زیادہ عرصے تک جاری رہا تو صورتِ حال کو سنبھالنا مزید مشکل ہوتا جائے گا۔ ادارے کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ایشیا اس کے بعد دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے بہت سے ممالک خلیجی تیل اور گیس کے بڑے درآمد کنندہ ہیں۔بھارت، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے پاس تیل کے نسبتاً کم ذخائر موجود ہیں جبکہ اس خطے میں پہلے ہی بھاری قرضوں تلے دبے ہوئے ممالک جیسے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا بھی شامل ہیں جن کی معیشتیں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔سیفون اریوالو نے کہا کہ ہم ان ممالک پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ دیکھ سکیں کہ ان کی کریڈٹ صورتحال کس طرح آگے بڑھتی ہے ۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں