تیل 200ڈالر بیرل تک پہنچنے کی بات حقیقت سے دور نہیں
لڑائی شدت اختیار کرتی جا رہی ،بحران جلد ختم ہونیکی امید محض خوش فہمی مئی کے سودوں کیلئے خام تیل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر بیرل تک پہنچ چکی ایشیا بھر کی ریفائنریز خام تیل کی مقدار کو بچانے کیلئے پیداوار کم کر رہی ہیں
لندن (رائٹرز) ایران کی جانب سے تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جانے کی دھمکی بظاہر بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی بات لگ سکتی ہے ، لیکن توانائی کے بحران کے طویل ہونے کے ساتھ یہ امکان زیادہ حقیقی دکھائی دینے لگا ہے ، بہ نسبت اس پیش گوئی کے جو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی کہ قیمتیں جلد جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔ خام تیل کی قیمت اب تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے ، جو سال کے آغاز کی سطح سے تقریباً 65 فیصد زیادہ ہے ۔ یہ وہ قیمت ہے جو چند ہفتے پہلے ناقابلِ تصور تھی، مگر گزشتہ پیر کو ریکارڈ کی گئی تقریباً 120 ڈالر فی بیرل کی عارضی بلند ترین سطح سے ابھی بھی کم ہے ۔چونکہ عالمی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ یعنی روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل، آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کی وجہ سے بلاک ہے۔
قیمت میں پیر کو معمولی کمی آئی جب یہ خبر سامنے آئی کہ بھارت، چین اور پاکستان کو تیل اور خام تیل لے جانے والے کئی ٹینکرز حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ممالک اپنے جہازوں کیلئے محفوظ گزرگاہ کے انتظامات کر سکتے ہیں۔ تاہم منتقل کی جانے والی مقدار بہت محدود ہے ۔سرمایہ کار اب بھی بظاہر صدر ٹرمپ کو شک کا فائدہ دے رہے ہیں، یہ امید رکھتے ہوئے کہ بحران جلد ختم ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گا۔ تاہم یہ خوش فہمی زمینی حقائق کے ساتھ کم مطابقت رکھتی ہے ۔ جنگ کے میدان میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے اور خام تیل کی مارکیٹ میں سپلائی کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔خام تیل کی اصل مارکیٹ میں پریشانی کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں، جبکہ کچھ تجارتی مارکیٹیں ابھی تک اس پر زیادہ توجہ نہیں دے رہیں۔
عمانی خام تیل جو آبنائے ہرمز کے قریب ایک بندرگاہ سے برآمد ہوتا ہے ، کی قیمت اب برینٹ تیل سے 51 ڈالر زیادہ ہے ، جبکہ فروری میں اس کا فرق صرف 75 سینٹ تھا۔ اس کے نتیجے میں مئی میں ترسیل کیلئے خام تیل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ۔سادہ لفظوں میں عالمی معیار کا تیل (برینٹ) اور خلیجی تیل (عمانی) کے درمیان قیمت کا فرق بہت بڑھ گیا ہے ، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیج سے تیل کی سپلائی کم ہو رہی ہے اور مارکیٹ میں شدید دباؤ ہے ۔یہی صورتحال دوسرے تیل کے علاقوں میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ دبئی کا خام تیل پیر کو 56 ڈالر فی بیرل مہنگا ہو گیا، جبکہ فروری میں اس کا فرق صرف 90 سینٹ تھا۔یہ قیمت میں اچانک اضافہ اس وجہ سے ہوا کہ ایران نے عمان اور متحدہ عرب امارات کے فوجی اور تیل کے بندرگاہی مقامات پر بار بار حملے کیے ، جس سے یہ غیر یقینی پیدا ہو گئی کہ اصل میں کتنا تیل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
ایشیا میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں (ریفائنریز) کیلئے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ وہ اپنے خام تیل کا تقریباً 60 فیصد مشرقِ وسطٰی سے درآمد کرتے ہیں، فوری طور پر متبادل سپلائی تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہے ۔خلیج سے ایک شپمنٹ ایشیا پہنچنے میں تقریباً ایک مہینہ لگتا ہے ، اس لیے جب تک آبنائے ہرمز بند رہے گی ریفائنریز کو سپلائی کی کمی کا سامنا بڑھتا جائے گا۔یہ دباؤ پہلے ہی ریفائنریز پر اثر ڈال رہا ہے اور انہیں سخت اقدامات پر مجبور کر رہا ہے ۔ ایشیا بھر کی ریفائنریز اپنی محدود خام تیل کی مقدار کو بچانے کیلئے پیداوار کم کر رہی ہیں۔چین کی کمپنی سینوپیک، جو دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری ہے ، نے اطلاع دی ہے کہ وہ اس ماہ اپنی پیداوار 10 فیصد سے زیادہ کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ خام تیل کی سپلائی کم ہے ۔اسی دوران، چین اور تھائی لینڈ نے ریفائن شدہ ایندھن کی برآمدات پر پابندی لگا دی ہے ، تاکہ اپنے اندرونی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے ، لیکن اس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی کمی مزید بڑھ سکتی ہے۔
خام تیل کی کمی کے سبب ریفائن شدہ ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایشیا میں جہازوں کے ایندھن کی قیمتیں تقریباً 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو اس ماہ پہلے ریکارڈ 220 ڈالر کے قریب تھیں۔یہ بحران صرف ایشیا تک محدود نہیں ہے ۔یورپ گزشتہ سال سے آبنائے ہرمز کے ذریعے مشرقِ وسطٰی سے آنے والے جہازوں کے ایندھن کا تقریباً تین چوتھائی حصہ حاصل کرتا رہا ہے ، یعنی روزانہ تقریباً 379000 بیرل، لیکن جنگ کے آغاز کے بعد سے اس راستے سے کوئی ترسیل نہیں ہوئی۔نتیجتاً ایمسٹرڈیم، روٹرڈیم، اینٹورپ ریفائننگ ہب میں جہازوں کے ایندھن کی قیمت ریکارڈ 190 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ، جو اس سے پہلے روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے فوری بعد فروری 2022 میں بنائے گئے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے ۔یوکرین کے بحران سے موازنہ یہ بتاتا ہے کہ ایران کی جنگ کتنی سنگین ہے۔
یوکرین پر حملے سے پہلے روس یورپ کے خام تیل کا تقریباً 30 فیصد اور ریفائن شدہ تیل کی ایک تہائی فراہم کرتا تھا۔ لوگوں کو ڈر تھا کہ اگر روس سے تیل نہ ملا تو قیمتیں بہت بڑھ جائیں گی، اور اسی خوف کی وجہ سے برینٹ کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، حالانکہ یہ بدترین صورتحال پوری طرح نہیں آئی۔اب ایران کی جنگ سے پیدا ہونے والے تیل کی سپلائی کے رکاوٹ کا اثر یوکرین بحران سے تین گنا زیادہ ہے ۔یہ واضح ہے کہ جنگ کے آغاز سے پہلے تیل کی مارکیٹ نسبتاً بہتر حالت میں تھی، کیونکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے ) نے اندازہ لگایا تھا کہ عالمی سپلائی مانگ سے تقریباً 3اعشاریہ 7 ملین بیرل روزانہ زیادہ ہوگی، لیکن موجودہ بحران نے یہ اضافی مقدار ختم کر دی ہے ۔ اگر آبنائے ہرمز فوراً دوبارہ کھل بھی جائے ، تو بھی فوری ریلیف نہیں ملے گا۔آئی ای اے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مشرقِ وسطٰی کی تقریباً 10 ملین بیرل روزانہ پیداوار بند ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنے میں اگر مہینے نہیں تو ہفتوں لگ سکتے ہیں۔