فلسطینیوں کی پھانسی کا قانون،امریکا حامی ،عالمی برادری کی مذمت

فلسطینیوں کی پھانسی کا قانون،امریکا حامی ،عالمی برادری کی مذمت

یہ قانون تشویشناک ، امتیازی، انصاف کے اصولوں کے منافی :یورپی یونین

رام اللہ،جنیوا،برسلز،واشنگٹن(اے ایف پی) امریکا نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو قتل کے الزامات پر موت کی سزا دے سکتا ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ توقع ہے سزا منصفانہ مقدمے اور قانونی حفاظتی ضمانتوں کے تحت دی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے سربراہ ولکر ترک نے اسرائیل کی پارلیمنٹ کی جانب سے سزائے موت کے امتیازی قانون کی منظوری پر شدید تنقید کی ۔انہوں نے خبردار کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس قانون کا اطلاق "جنگی جرم" تصور کیا جائے گا۔ یورپی یونین نے اسرائیل کے امتیازی قانون کی شدید مذمت کی ۔ای یو ترجمان انونی نے کہا کہ یہ قانون تشویش کا باعث ہے اور واضح طور پر انسانی حقوق اور منصفانہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

یورپی یونین نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے ۔ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے بل کو "اپارت ہائڈ کے قریب قدم" قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ قانون غیر متوازن ہے کیونکہ اسی جرم کے مرتکب اسرائیلی شہریوں پر اطلاق نہیں ہوگا۔سوشل میڈیا پر انہوں نے لکھا "ایک ہی جرم، مختلف سزا، یہ انصاف نہیں۔"جرمنی نے نئے قانون کی حمایت سے انکار کیا ،حکومت کے ترجمان اسٹیفن کورنیلیس نے کہا کہ جرمنی کی پالیسی میں سزائے موت کی مخالفت بنیادی اصول ہے ۔ادھر فلسطین میں مظاہرین نے رام اللہ میں جمع ہو کر قانون کی مخالفت میں نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھائے جن پر قیدیوں کی تصویریں اور پھانسی کے خوفناک مناظر دکھائے گئے ۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں