"AIZ" (space) message & send to 7575

طرزِ زندگی کے صحت پر اثرات

ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ نفسیاتی اور جسمانی اعتبار سے توانا اور تندرست ہو لیکن بہت سے لوگ زندگی میں مختلف طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے جہاں مادی اور روحانی علاج کی ضرورت پڑتی ہے وہیں بہت سی بیماریوں کا تعلق انسان کے طرزِ زندگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی زندگی میں کچھ مثبت تبدیلیاں لے آئے تو وہ بہت سی بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔
1۔ بسیار خوری کے منفی اثرات: انسان جب زیادہ کھانا کھاتا ہے تو اس کے معدے اور جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ مختلف طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاعراف کی آیت: 31 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور کھائو اور پیو اور حد سے نہ نکلو‘ یقینا وہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو کھانے پینے کے دوران اسراف کے بجائے اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کھانے پینے کے حوالے سے اعتدال سے کام لیتے تھے‘ اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو تندرستی کی نعمت سے نواز رکھا تھا۔ ان میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی اور عبادات کے ساتھ ساتھ خدمت انسانیت کیلئے کام کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اُتم موجود تھی۔ مشکل لمحات کے دوران اور اعدائے دین کے مقابلے پر ان کو اللہ تعالیٰ نے صبر‘ برداشت اور جدوجہد کی عظیم صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان خصوصیات کا تعلق جہاں ان کی روحانیت کے ساتھ تھا وہیں ان کے معمولاتِ حیات بھی اس حوالے سے نمایاں کردار ادا کرتے تھے۔2۔ نیند میں بے اعتدالی کے منفی اثرات: اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر دن کو معاش اور رات کو آرام کا وقت قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ القصص کی آیت: 73 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اس (اللہ) نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم (رات میں) آرام کرو اور (دن میں) اس کا فضل (روزی) تلاش کر سکو اور تاکہ تم شکر گزار بنو‘‘۔ بہت سے لوگ اس کے برعکس زندگی گزارتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ رات کو جاگنے یا دن میں محنت کے بجائے آرام کرتے رہنے سے بہت سی نفسیاتی اور جسمانی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جب انسان نیند میں اعتدال سے کام لیتاہے اور رات کا بیشتر حصہ آرام میں اور دن کا بیشتر حصہ معاشی معاملات کی تگ و دو میں گزارتا ہے تو اس کی صحت پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان کو رات کے کچھ حصے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا بھی ضرور اہتمام کرنا چاہیے‘ اس طرح روحانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور بہت سی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔
3۔ طہارت اور نظافت کے مثبت اثرات: انسان کی زندگی پر طہارت اور نظافت کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جو انسان طہارت کا اہتمام کرتا ہے اور اپنے کپڑوں اور جسم کو نجاست و آلودگی اور اردگرد کے ماحول کو گندگی سے بچاتا ہے وہ نفسیاتی اور جسمانی اعتبار سے آسودگی والی زندگی گزارتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسی مسجدوں میں کھڑے ہونے کی ترغیب دلائی ہے جہاں طہارت اختیار کرنے والے لوگ موجود ہوں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت: 109 میں فرماتے ہیں: ''وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا اور نماز پڑھایا کرو‘ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔ اسلام نے صفائی وستھرائی پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ نماز پنجگانہ کیلئے وضو کی شرط سے انسان کو اعضا کے دھونے کی رغبت دلائی گئی‘ اسی طرح اپنے جبلی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد غسل کو طہارت کیلئے ضروری قرار دیا۔ کپڑوں کو بھی نجاست اور آلودگی سے بچانے کا حکم دیا گیا۔ اس طرزِ زندگی کے انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 4۔ بے صبری اور عدم برداشت کے منفی اثرات: ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے صبری اور عدم برداشت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ معمولی تنازعات کے دوران گالی گلوچ‘ لڑائی جھگڑے اور تصادم پر اتر آتے ہیں۔ اس رویے کا اظہار کئی مرتبہ گھریلو سطح پر بھی دیکھنے کو ملتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے گھریلو تنازعات اور ناچاقیاں جنم لیتی ہیں۔ اگر انسان صبر کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے بہت سے جسمانی اور روحانی عوارض سے بچنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ بے صبری اور عدم برداشت کی وجہ سے انسان کو بلند فشارِ خون‘ شدید عصابی دبائو اور تنائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ صبر کرنے کی وجہ سے انسان ان عوارض سے محفوظ رہتا ہے اور جسمانی اور روحانی آسودگی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے صبر کرنے والوں پر رحمتوں کا نزول ہوتا ہے چنانچہ اگر صبر کا راستہ اختیار کیا جائے تو انسان بہت سی بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ 5۔ حسد اور بغض کے منفی اثرات: ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ دوسروں کی ترقی سے حسد کا شکار ہو جاتے ہیں اور بجائے خود محنت کرنے کے دوسرے کی نعمت چھن جانے کی تمناکرتے رہتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی وجہ سے انسان بہت سے نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہو جاتا ہے اور ان عوارض کے جسمانی اور طبعی صحت پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان کو کسی دوسرے کو نعمت ملتے دیکھ کر بغض کے بجائے کشادگی اور فراخدلی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اپنے مسلم بھائی کیلئے دعائے خیر کرنے اور اسکے بارے میں اچھے جذبات رکھنے کی وجہ سے انسان کو دلی اطمینان حاصل ہوتا اور اسکے دل میں وسعت پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت سی نفسیاتی عوارض اور جسمانی تکالیف سے بچ جاتا ہے۔
6۔ سستی اور لاپروائی کے منفی اثرات: انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت سی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن بہت سے انسان اپنی تعلیم اور معاش میں ترقی کے بجائے لاپروائی‘سستی‘ کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف طرح کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ معاشی معاملات ابتر ہونے کی وجہ سے بہت سی بنیادی سہولتوں اور ضروریات کو پورا کرنے سے بھی وہ قاصر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان اگر چاق وچوبند رہے اور غفلت اور کوتاہی سے گریز کرے تو اپنے بہت سے معاملات کو احسن طریقے سے حل کر سکتا ہے۔ اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے سرانجام دینے اور معاشی اور تعلیمی ترقی کی وجہ سے انسان کو جہاں ذہنی آسودگی حاصل ہوتی ہے وہیں اس کے وسائل میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس کے سبب اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سہولتیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں انسان کی نفسیاتی اور جسمانی صحت میں بہتری آتی ہے اور وہ معاشرے میں متوازن زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔7۔ بُری صحبت کے منفی اثرات: انسان کو ہمیشہ بری صحبت سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسی صحبت جس میں انسان فحاشی وعریانی اور نشہ آور اشیا کے استعمال کا عادی ہو جائے‘ اس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔ بُری صحبت انسان کو جسمانی اور نفسیاتی عوارض میں مبتلا کر دیتی ہے جبکہ صلحا‘ نیکوکار اور علم پرور لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے انسان نفسیاتی اور جسمانی اعتبار سے آسودگی محسوس کرتا ہے۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کیا جائے تو انسان بہت سے عوارض اور بیماریوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو صحت وتندرستی کی نعمت سے بہرہ ور کرے اور نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں سے محفوظ فرمائے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں