بھارت:منی پور فسادات،4ہلاک،آسام میں3مسلمان قتل

بھارت:منی پور فسادات،4ہلاک،آسام میں3مسلمان قتل

ہندؤں کے وحشیاتہ تشددسے سیف اﷲ، خیرالحق ، انعام الحق موقع پرجاں بحق منی پور میں کرفیو نافذ،انٹر نیٹ بند،تمل ناڈومیں9 اہلکاروں کو سزائے موت

گوہاٹی(نیوز ایجنسیاں )بھارتی ریاست آسام کے ضلع ناگون میں ہندوانتہاپسندوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر 3مسلمانوں کو قتل کر دیا ۔ جن کی شناخت سیف اﷲ،  خیرالحق اور انعام الحق کے طورپر ہوئی ۔ناگون کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ کالیابار سب ڈویژن کے ایک گاؤں میں پیش آیاجہاں ہندوانتہاپسندوں نے  چار مسلمانوں کو بری طرح تشددکا نشانہ بنایا ، دوافراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی اور ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ،ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے ۔دوسری جانب شمال مشرقی بھارت کی ریاست منی پور میں ایک بار پھر فسادات کے بعد انٹرنیٹ بند اور کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہوئے ، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ یہ تشدد ہندو اکثریتی میتی اور عیسائی کمیونٹی کُکی کے درمیان جاری تنازع کے نتیجے میں ہوا۔

 مشتعل میتی ہجوم نے فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا، گاڑیاں نذر آتش اور پولیس چوکیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ فورسز نے فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جس میں چار افراد زخمی ہوئے ۔ بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں 2020 میں حراست کے دوران باپ اور بیٹے کی ہلاکت کے کیس میں عدالت نے 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنادی۔ 58 سالہ پی جے یاراج اور ان کے 38 سالہ بیٹے بینکس کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق پولیس نے انہیں برہنہ کر کے تشدد کیا، جس کے نتیجے میں چند روز بعد جیل میں ان کی موت واقع ہوئی۔ جج نے کہا کہ یہ اختیارات کا ناجائز استعمال اور قتل کی نیت تھی۔ ایک ملزم پہلے ہی کورونا میں ہلاک ہوچکا تھا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں